کیا پیٹرول کی قیمت 15 ماہ کی کم ترین سطح پر آنے والی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں چند سالوں سے خبروں کی سرخیوں میں رہتی ہیں کیوں کہ حکومت ہر 15 دنوں کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا فیصلہ کرتی ہے اور ہر خاص و عام کو تجسس ہوتا ہے کہ اب کی بار پیٹرول کی قیمت بڑھے گی یا کم ہو گی؟
یہ بھی پڑھیں: عالمی مارکیٹ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ
گزشتہ 2 ماہ میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 12 روپے تک کی کمی ہو چکی ہے اور اس مرتبہ پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 سے 5 روپے فی لیٹر کمی کا امکان ہے جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 248 روپے فی لیٹر تک آ سکتی ہے، نومبر 2024 کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ پیٹرول کی قیمت 250 روپے فی لیٹر سے کم ہو گی۔
حکومت نے یکم جنوری 2026 کو جب پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 10 روپے کی بڑی کمی کی تھی تو اس وقت عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل تھی جو کہ اب 3 ڈالر بڑھ کر 63 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے اسی طرح 31 دسمبر 2025 کو ڈالر کی قیمت 278 روپے تھی جو کہ اب بڑھ کر 280 روپے ہو گئی ہے۔
پیٹرول کی قیمت کا تعین کرتے وقت عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت اور ڈالر کے ریٹ کو مد نظر رکھا جاتا ہے لہٰذا اسی بنیاد پر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں 4 سے 5 روپے کی کمی کا امکان کم ہے یا تو پیٹرول کی قیمت میں معمولی اضافہ ہوگا یا یہ قیمتیں برقرار رکھی جائیں گے تاہم حتمی فیصلہ اوگرا کی سمری کی روشنی میں وزارت خزانہ آج رات 12 بجے سے قبل کرے گی۔
مزید پڑھیے: پنجاب کے سرکاری محکموں میں پیٹرول و ڈیزل گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد
پاکستان میں پیٹرول کی قیمت سب سے زیادہ سال ستمبر 2023 میں ہوئی تھی جب فی لیٹر پیٹرول کی قیمت 331 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی، اس کے بعد قیمتوں میں کمی کا سلسلہ شروع ہوا اور ایک سال میں اتار چڑھاؤ کے بعد ستمبر 2024 میں قیمت 247 روپے فی لیٹر تک ہو گئی تھی، سال 2025 میں پیٹرول کی قیمت سب سے زیادہ جولائی 2025 کو 272 روپے فی لیٹر تک گئی تھی اور سب سے کم مئی میں 252 روپے فی لیٹر تھی، اس وقت پیٹرول کی فی لیٹر کی قیمت 253 روپے فی لیٹر ہے۔
مزید پڑھیں: ریفائنریز میں تیار کیے جانے والے پیٹرول میں ایتھنول کی آمیزش سے متعلق تجویز
واضح رہے کہ حالیہ بجٹ سے قبل حکومت نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے دوران یہ طے کیا تھا کہ آئندہ مالی سال میں پیٹرولیم لیوی کو بتدریج 100 روپے فی لیٹر تک بڑھایا جائے گا، اگرچہ فی الحال مکمل 100 روپے لیوی لاگو نہیں ہوئی، لیکن پیٹرول کی موجودہ قیمت میں 78 روپے 2 پیسے پیٹرولیم لیوی اور 2 روپے 50 پیسے کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور 14 روپے 37 پیسے کسٹمز ڈیوٹی کے شامل ہیں، جو فی لیٹر کی قیمت میں صارفین سے وصول کیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرول 250 روپے فی لیٹر سے کم پیٹرول کی قیمت پیٹرول کی قیمت میں خاطرخواہ کمی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیٹرول پیٹرول 250 روپے فی لیٹر سے کم پیٹرول کی قیمت پیٹرول کی قیمت میں روپے فی لیٹر تک میں پیٹرول کے بعد
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔