کرپشن کے باعث سرکاری اداروں میں ایک ہزار ارب روپے سالانہ ضائع ہورہے تھے، وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سود کی ادائیگی سب سے بڑا خرچہ ہے، سرکاری اداروں میں ایک ہزار ارب روپے سالانہ ضائع ہورہے تھے۔
پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ گزشتہ مالی سال ترسیلات زر 38 ارب ڈالر تھیں جب کہ رواں مالی سال کے دوران ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور ایف بی آر کی ٹرانسفارمیشن پر عمل جاری ہے ۔ ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کے لیے کمپلائنس اور انفورسمنٹ کے ذریعے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی جا رہی ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں مقامی سرمایہ کاروں نے بھی شرکت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 24 ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کیے جا چکے ہیں ۔ سرکاری اداروں میں ہر سال تقریباً ایک ہزار ارب روپے ضائع ہو رہے تھے، اسی تناظر میں یوٹیلٹی اسٹورز، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو کو بند کیا گیا کیونکہ ان اداروں کو دی جانے والی سبسڈی میں کرپشن ہو رہی تھی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ جتنی ڈیوٹیز بڑھائی جاتی ہیں وہ معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں، اس لیے ڈیوٹیز کو معقول بنانا اور کاروباری لاگت کم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی حکومت کا سب سے بڑا خرچہ ہے، تاہم گزشتہ سال قرضوں پر سود کی مد میں 850 ارب روپے کی بچت کی گئی جب کہ رواں مالی سال بھی اس مد میں اخراجات میں بچت کی جائے گی۔
وفاقی وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ حکومت آئندہ 2 ہفتوں میں پانڈا بانڈز لانچ کرے گی۔ ایک سروے کے مطابق 73 فیصد سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے حق میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تجارتی خسارہ بڑھا ہے تاہم کرنٹ اکاؤنٹ ہدف کے اندر ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بڑی صنعتوں کی کارکردگی مثبت رہی ہے۔ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی بڑھ کر 1.
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے پاس دنیا کی تیسری سب سے بڑی فری لانسر فورس موجود ہے ۔ نوجوانوں کو سسٹم اور پلیٹ فارم فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے لیے آبادی پر قابو پانا ہوگا کیونکہ آبادی میں سالانہ 2.55 فیصد اضافے کے ساتھ ترقی ممکن نہیں ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی خود کم نہیں ہوئی بلکہ اس کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں ۔ اس سال قرضوں کی بہتر منصوبہ بندی سے قابلِ ذکر بچت کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بچت کو ملک کے اہم اور ترقیاتی کاموں میں استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بیرونِ ملک مارکیٹ میں سرمایہ کاری جاری ہے ۔ آئندہ ہفتوں میں پانڈا بانڈ کے بارے میں خبریں آئیں گی۔ اب چین کی مارکیٹ میں بھی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے ۔ کرنسی کی تبدیلی سے 2.5 فیصد فائدہ ہوگا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ اصلاحات پر بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے اعتماد ظاہر کیا ہے ۔ آئی ایف سی نے 3.5 ارب ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری مکمل کی ہے۔
وزیر خزانہ نے ریکوڈک منصوبے کے فوائد بتاتے ہوئے کہا کہ برآمدات 2028 میں شروع ہوں گی اور پہلے سال 2.8 ارب ڈالر کی برآمدات متوقع ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیلی نار کی ٹرانزیکشن میں آئی ایف سی نے 400 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کا اعتماد بڑھ رہا ہے، سروے کے مطابق 73 فیصد سرمایہ کار پُرامید ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر نجکاری محمد علی نے کہا کہ ماضی کی غلط معاشی حکمت عملی نے نجی سرمایہ کاری کو حوصلہ شکنی کی اور قرضوں میں اضافہ کیا۔ نجکاری کوئی نظریاتی منصوبہ نہیں بلکہ مارکیٹ کی خرابیوں کو درست کرنے کا طریقہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مضبوط معیشت وہ ہے جہاں ادارے فعال ہوں ۔ جدید معاشی ری سیٹ کے لیے مائنڈ سیٹ کی تبدیلی ضروری ہے۔
مصدق ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خوشحالی کا واحد راستہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور ہر شہری کو یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خوشحالی کا راستہ صرف طاقت اور اثر و رسوخ تک رسائی بن چکا ہے اور مخصوص طبقے کو سستی بجلی، گیس اور ٹیکس چھوٹ دی جاتی ہے۔ حکومت بڑے سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے کے بجائے چھوٹے کارخانوں اور نوجوانوں کو وسائل فراہم کرے۔
مصدق ملک کا کہنا تھا کہ خوشحالی کا سرچشمہ تعلیم، ہنر اور پیداواری صلاحیت ہے ۔ معاشی نظام میں ٹیلنٹ اور قابلیت کے اصول پر لوگوں کو آگے بڑھنے کے مواقع ملنے چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر معاشی پالیسیاں درست ہوتیں تو آج پاکستان بنگلا دیش سے آگے ہوتا۔ معیشت میں ‘بوم اینڈ بسٹ’ سائیکل کی وجہ صرف امپورٹ اور کھپت پر انحصار ہے ۔ اشرافیہ کو نوازنے والی پالیسی نے ملک کی پیداواری صلاحیت کو کمزور کر دیا ہے۔
وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ دنیا میں جے ایف-17 طیارے بھی فروخت کر رہا ہے۔ ٹریکٹر سازی، آٹوموبائل اور انجینئرنگ سیکٹر میں بھی نمایاں ترقی ہوئی ہے، لیکن عالمی مقابلے میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 1980 میں چین کی فی کس آمدنی ہم سے کم تھی، آج وہ ہم سے آگے نکل چکا ہے جب کہ ویتنام کی ایکسپورٹ 408 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان کی ایکسپورٹ اب بھی 40 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ انہوں نے ملک میں یونیورسٹیوں اور شاہراہوں کے جال کو بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ عالمی مقابلے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل محمد اورنگزیب نے کہا انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ میں سرمایہ کاری خطاب کرتے ہوئے کہ پاکستان مارکیٹ میں نے کہا کہ مالی سال ارب ڈالر ارب روپے ڈالر کی کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔