اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، انڈیکس میں 1,500 پوائنٹس کمی
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
مثبت آغاز کے بعد جمعرات کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں دوبارہ فروخت کا دباؤ دیکھنے میں آیا، جس کے باعث انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران 100 انڈیکس میں تقریباً 1,500 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی۔
دوپہر 2 بج کر 35 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 181,073.23 پوائنٹس پر موجود تھا، جو 1,496.58 پوائنٹس یعنی 0.82 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
اہم شعبوں میں فروخت دیکھی گئی جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، پاور جنریشن اور ریفائنری شامل ہیں۔
انڈیکس پر زیادہ اثر رکھنے والے اسٹاکس، جن میں اٹک ریفائنری لمیٹڈ، ماری انرجیز، ایس ایس جی سی، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور یونائیٹڈ بینک شامل ہیں، مندی کا شکار رہے۔
The Pakistan Stock Exchange faced renewed selling pressure, with the KSE-100 index dropping 1,381.
— Investify Pakistan (@investifypk) January 15, 2026
بدھ کے روز حکومتِ پاکستان اور ورلڈ لبرٹی فائنانشل امریکا کی ذیلی کمپنی ایس سی فائنانشل ٹیکنالوجیز ایل ایل سی کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کا مقصد جدید ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام اور سرحد پار مالیاتی جدت میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
ورلڈ لبرٹی فنانشل امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان کا مرکزی کرپٹو بزنس ہے۔
مزید پڑھیں: فروخت کے دباؤ کے باعث اسٹاک مارکیٹ منفی زون میں، انڈیکس میں 890 پوائنٹس کی کمی
گزشتہ روز یعنی بدھ کو بھی پاکستان کی ایکویٹی مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی، جہاں مسلسل جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کی محتاط حکمتِ عملی کے باعث بینچ مارک انڈیکسز سرخ زون میں بند ہوئے۔
بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 182,569.82 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 1,381.69 پوائنٹس یعنی 0.75 فیصد کمی کا عکاس ہے۔
عالمی سطح پر، جمعرات کو تیل کی قیمتیں کئی ماہ کی بلند ترین سطح سے نیچے آ گئیں، جبکہ محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جانے والے سونے کی قیمت بھی ریکارڈ سطح سے کچھ کم ہو گئی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی سے متعلق خدشات کم کیے۔
ٹیکنالوجی اسٹاکس میں فروخت کا رجحان ایشیائی مارکیٹس تک پھیل گیا، جب وال اسٹریٹ میں مزید گراوٹ کے بعد سرمایہ کار ہائی فلائنگ چِپ اور مصنوعی ذہانت سے جڑی کمپنیوں سے نکل کر مارکیٹ کے دیگر شعبوں میں مواقع تلاش کرنے لگے۔
مزید پڑھیں:پاکستان اسٹاک ایکسچینج: سرمایہ کاروں کی تعداد میں 41 فیصد اضافہ
صدر ٹرمپ نے بدھ کی دوپہر کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ایران میں ملک گیر احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران ہلاکتوں میں کمی آ رہی ہے اور ان کے خیال میں اس وقت بڑے پیمانے پر سزائے موت دینے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔
ایشیا میں اسٹاک مارکیٹس کا رجحان ملا جلا رہا، تاہم ٹیکنالوجی شیئرز مزید دباؤ کا شکار رہے۔
جاپان میں ٹیکنالوجی پر مبنی نِکّے انڈیکس 0.9 فیصد کمی کے بعد نیچے آیا، جو پچھلے سیشن میں آل ٹائم ہائی پر پہنچا تھا، جبکہ وسیع تر ٹاپکس انڈیکس 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ نئی ریکارڈ سطح پر بند ہوا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹاک ایکسچینج انٹرا ڈے ٹریڈنگ انڈیکس ایران ایس سی فائنانشل ٹیکنالوجیز پاکستان ڈیجیٹل ادائیگی سرمایہ کار صدر ٹرمپ کریک ڈاؤن مالیاتی جدت مفاہمتی یادداشت ورلڈ لبرٹی فائنانشل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹاک ایکسچینج انٹرا ڈے ٹریڈنگ انڈیکس ایران ایس سی فائنانشل ٹیکنالوجیز پاکستان ڈیجیٹل ادائیگی سرمایہ کار کریک ڈاؤن مالیاتی جدت مفاہمتی یادداشت ورلڈ لبرٹی فائنانشل
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔