لاہور ہائیکورٹ میں تقرریوں کا عمل مکمل، جوڈیشل کمیشن نے منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام آباد: جوڈیشل کمیشن کے اہم اجلاس میں لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز سے متعلق بڑا فیصلہ سامنے آ گیا ہے، جس کے تحت کمیشن نے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل جج بنانے کی منظوری دے دی ہے۔
جوڈیشل کمیشن کا اجلاس چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز کی کارکردگی، سروس ریکارڈ اور دیگر متعلقہ امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر باضابطہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں مختلف فیصلوں کی تفصیلات شامل کی گئیں۔
اعلامیے کے مطابق جن ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دی گئی ہے، ان میں جسٹس حسن نواز مخدوم، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان اور جسٹس سردار اکبر علی شامل ہیں۔ اسی طرح جسٹس سید احسن رضا، جسٹس ملک جاوید اقبال اور جسٹس محمد جواد ظفر کو بھی لاہور ہائیکورٹ کا مستقل جج مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے عدالت میں مستقل ججز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
جوڈیشل کمیشن کے اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ جسٹس خالد اسحاق، جسٹس ملک محمد اویس خالد اور جسٹس چوہدری سلطان محمود کی مستقلی کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ جسٹس تنویر احمد شیخ اور جسٹس عبہر گل کو بھی مستقل جج بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، یوں مجموعی طور پر 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔
تاہم اعلامیے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج راجا غضنفر علی خان کو اس مرحلے پر مستقل نہیں کیا جا سکا۔ اس کے برعکس ایڈیشنل جج طارق محمود باجوہ کو چھ ماہ کی توسیع دینے کی منظوری دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے اس اجلاس میں ایک اور قابلِ ذکر پہلو بھی سامنے آیا، جہاں پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے جوڈیشل کمیشن کے دو اراکین مسلسل اجلاسوں میں غیر حاضر رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل جوڈیشل کمیشن کے لاہور ہائیکورٹ ایڈیشنل ججز ایڈیشنل جج اور جسٹس کیا گیا گیا ہے گئی ہے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔