علیمہ خان کی حاضری سے استثیٰ کی درخواست منظور
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
راولپنڈی: انسداد دہشت گردی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کی حاضری سے استثیٰ کی درخواست قبول کر لی۔انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق درج مقدمے کی سماعت ہوئی۔ مقدمے میں علیمہ خان سمیت 11 ملزمان نامزد ہیں۔سماعت کے دوران علیمہ خان کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی، جسے عدالت نے منظور کرلیا۔ مقدمے میں نامزد ملزم عاطف ریاض کے وکیل جرح کے لیے عدالت میں پیش نہ ہوئے۔جس پر عدالت نے وکیل پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا۔عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 19 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے استغاثہ کے مزید گواہان کو طلب کر لیا۔ اب تک مقدمے میں 7 گواہان پر جرح مکمل ہوچکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: علیمہ خان عدالت نے خان کی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔