یوٹیوب نے کم عمر صارفین کے لیے پلیٹ فارم کے استعمال کو بہتر اور محفوظ بنانے کے لیے والدین کے کنٹرولز میں مزید توسیع کر دی ہے، جس کے تحت اب والدین یوٹیوب شارٹس دیکھنے کے دورانیے پر بھی حد مقرر کرسکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: وہ یوٹیوب ویڈیو جو آپ نے آج دیکھنی شروع کی تو ختم 140 سال بعد ہوگی، آخر ماجرا کیا ہے؟

گوگل کی ملکیت ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم کے مطابق والدین اب یہ طے کر سکتے ہیں کہ ان کے نوعمر بچے یوٹیوب شارٹس پر کتنا وقت گزار سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے 15 منٹ، 30 منٹ، 45 منٹ، ایک گھنٹہ اور 2 گھنٹے کے مختلف آپشنز دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ والدین شارٹس فیڈ کو مکمل طور پر بند کرنے کا اختیار بھی حاصل کر سکیں گے، جس کے تحت ایک دن کے لیے شارٹس دیکھنے کی سہولت ختم کی جا سکتی ہے۔

یوٹیوب کی جانب سے جاری اپ ڈیٹ میں بتایا گیا ہے کہ وقت کی حد کے ساتھ ساتھ مواد سے متعلق رہنما اصول بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں تاکہ عمر کے لحاظ سے موزوں اور تعلیمی مواد کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے تحت نوعمر صارفین کو خان اکیڈمی کڈز، کریش کورس کڈز اور ٹیڈ ایڈ جیسے تعلیمی اور معلوماتی چینلز کی ویڈیوز تجویز کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: انسٹاگرام نے بالغ مواد کو محدود کرنے کے لیے بڑا قدم اٹھا لیا

کمپنی کے مطابق یہ اقدامات یوتھ ایڈوائزری بورڈ کی مشاورت سے، یو سی ایل اے کے سینٹر فار اسکالرز اینڈ اسٹوری ٹیلرز کے تعاون سے تیار کیے گئے ہیں، جن میں امریکن سائیکالوجیکل ایسوسی ایشن اور بوسٹن چلڈرنز اسپتال جیسے عالمی اداروں کی آرا بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ یوٹیوب نے اکاؤنٹ بنانے کے عمل کو بھی اپ ڈیٹ کر دیا ہے، جس کے ذریعے والدین اب آسانی سے اپنے بچوں کے اکاؤنٹس بنا سکیں گے۔ نئے نظام کے تحت 18 سال سے کم عمر بچوں کے اکاؤنٹس خودکار طور پر محفوظ سیٹنگز کے ساتھ بنائے جائیں گے، جبکہ موبائل ایپ میں چند کلکس کے ذریعے اکاؤنٹس تبدیل کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یوٹیوب کا نیا اے آئی ایج ایسٹیمیشن ماڈل لانچنگ کے قریب، کم عمر صارفین پر سخت پابندیاں

یوٹیوب کا کہنا ہے کہ ان نئے فیچرز کا مقصد والدین کو زیادہ کنٹرول دینا اور نوعمر صارفین کے لیے ایک محفوظ اور تعمیری ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news شارٹس صارفین معلوماتی چینلز والدین یوٹیوب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: صارفین معلوماتی چینلز والدین یوٹیوب عمر صارفین کے تحت کے لیے

پڑھیں:

بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔

ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی