وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں پاکستان ریلوے کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے اور جاری اصلاحات و ترقیاتی کاموں کے حوالے سے نجی شعبے کے ماہرین کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس کے موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ معیشت کی مجموعی ترقی، صنعت و تجارت اور دیگر شعبہ جات کی بہتری میں نجی شعبے کے ماہرین سے مشاورت حکومت کے معاشی اصلاحات کا حصہ ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ریلوے قلیل وسائل کے باوجود نہایت تندہی اور محنت سے مؤثر کارکردگی دکھا رہا ہے، جس پر وفاقی وزیر ریلوے اور ان کی پوری ٹیم لائق تحسین ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلوے میں ادارہ جاتی اور انتظامی اصلاحات دہائیوں سے ناگزیر تھیں اور ان اصلاحات کے ذریعے ادارے کو مزید منافع بخش بنایا جا سکتا ہے، جو ملکی صنعت و تجارت کے فروغ اور سرمایہ کاروں کی سہولت میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پاکستان ریلوے تمام متعلقہ اکائیوں اور اداروں سے بامعنی مشاورت کے بعد عملی اقدامات پر مشتمل جامع روڈ میپ اگلے ہفتے پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کی معاشی ترقی اور علاقائی تعاون میں اہمیت کے پیش نظر حکومت نے انقلابی اقدامات کا سلسلہ شروع کیا ہے، جن کے اطمینان بخش نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

وزیراعظم نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کے لیے حکومتی فنڈز کی دستیابی کو دہائیوں تک نظر انداز کیا گیا، تاہم اگلے سال کے پی ایس ڈی پی میں ریلوے کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے متناسب بجٹ فراہم کیا جائے گا۔

انہوں نے پاکستان ریلوے کو عالمی معیار کے کمرشل مواصلاتی نظام کا حصہ بنانے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا اور کہا کہ معیاری ریلوے نظام ملکی آمدنی میں اضافے اور معاشی ترقی میں قابل قدر کردار ادا کر سکتا ہے۔

وزیراعظم نے ریلوے کے ڈھانچے کے منافع بخش کمرشل استعمال کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے امکانات کا بھرپور جائزہ لینے اور پاکستان ریلوے کے منظم نظم و نسق اور کمرشل سطح پر مؤثر استعمال کے لیے جامع اور قابل عمل حکمت عملی جلد مرتب کرنے کی خصوصی ہدایات دیں۔

اجلاس میں شریک نجی شعبے کے ماہرین نے پاکستان ریلوے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اور اس کے کمرشل استعمال کے حوالے سے مختلف سفارشات پیش کیں، جن پر وزیراعظم نے اظہار تشکر کیا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، نیشنل کوآرڈینیٹر ایس آئی ایف سی لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سرفراز احمد، متعلقہ وزارتوں کے سیکریٹریز، دیگر سرکاری عہدیداران اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین زید بشیر، پیر سعد احسان الدین اور دیگر نے شرکت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہ پاکستان ریلوے وفاقی وزیر کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف