پاراچنار میں WF ایڈ کے تحت 4 روزہ فری آئی سرجیکل کیمپ کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: کنج علی زئی کے نور حسن المعروف مادو لالا نے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بندہ کی دونوں آنکھوں میں فرق تھا۔ چیزیں صاف دکھائی نہیں دیتی تھیں، بہت مشکل میں مبتلا تھا۔ پشاور راستے میں خطروں نیز ناقابل برداشت کرایوں اور دیگر آخراجات کی وجہ سے تکلیف سہتا رہا۔ پھر گزشتہ ستمبر میں اللہ تعالی نے اپنی رحمت کے فرشتے بھیج دئے۔ ہم بیچاروں کو بھی اس سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ ایک آنکھ کا آپریشن پچھلی دفعہ کیا۔ اب اس آنکھ سے دور دور تک نہایت صاف اور شفاف دکھائی دیتا ہے۔ تحریر: استاد ایس این حسینی
تحریک حسینی کے تحت ایک سال میں دوسری مرتبہ آنکھوں کے مفت معائنے کے علاوہ لاہور کے سپیشلست ڈاکٹروں کی نگرانی میں جدید فیکو مشینری کے ذریعے تقریباً 300 مستحق مریضوں کی آنکھوں کے مفت آپریشن کئے گئے۔ فری آئی سرجیکل کمیپ 8 جنوری سے لیکر 11 جنوری تک جاری رہنا تھا، تاہم 10 جنوری کو مطلوبہ ٹارگٹ پوری ہوئی، بلکہ مطلوبہ تعداد یعنی 300 سے 10 مریض کم بھی پڑ گئے۔ یعنی کل 290 مریضوں کے آپریشن کئے گئے۔ خیال رہے کہ میڈیکل ٹیم کے آنے سے دو دن قبل ہی تحریک حسینی کی ٹیم نے ہسپتال انتظامیہ خصوصاً ایم ایس ڈاکٹر سید میر حسن جان اور متعلقہ ڈاکٹر سید محمد ثقلین کے تعاون سے تمام ضروری وسائل کا بندوبست کررکھا تھا۔ جنریٹر کے لئے پٹرول، دو عدد بیٹری، مریضوں کے لئے ٹینٹ، سیکورٹی انتظامات اور دیگر تمام ضروری وسائل کا بندوبست کیا گیا تھا۔
7 جنوری کو دن دو بجے دو ماہر ڈاکٹرز، ڈاکٹر تنویر حیدر اور ڈاکٹر حمزہ خان نیازی کے ہمراہ انکی 12 رکنی ٹیم پاراچنار پہنچی، تو تحریک حسینی کے 25 سے زائد سینئر رہنماؤں نے سمیر عباس میں انکا پرتپاک استقبال کیا۔ اور انہیں قافلے کی صورت میں ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاراچنار لایا گیا۔ ڈاکٹر صاحبان نے ہسپتال پہنچتے ہی بلا تامل اپنے کام کا آغاز کیا۔ اور رات 9 بجے تک کل 43 مریضوں کے آپریشن کے علاوہ 100 سے زائد مریضوں کا معائنہ بھی کیا۔ طے شدہ شیڈول کے مطابق آپریشن کی ابتداء 8 جنوری سے ہونی تھی، تاہم ڈاکٹر صاحبان نے اپنے لئے کام آسان بنانے کی غرض سے اضافی ڈیوٹی کی۔ 8 جنوری کو صبح ساڑھے 8 بجے سے کام کا آغاز کیا۔ سرجیکل ٹیم نے شام 7 بجے تک پورا دن آپریشن تھیٹر میں گزارا، حتی کہ دن کا کھانا بھی نہ کھایا۔ صرف چائے پر گزارہ کیا۔ چنانچہ اس دن کل 101 افراد کے آپریشن مکمل کئے گئے۔ 9 جنوری کو صبح سے شام 4 بجے تک ڈیوٹی کے دوران 71 افراد کے آپریشن مکمل ہوئے۔ جبکہ 10 جنوری کو شام 5 بجے تک کل 75 آپریشن ہونے کے بعد کوئی مریض ہی باقی نہیں رہا۔ اور یوں ٹیم کا ہدف تقریبا پورا ہوا۔
اس دوران کئی ایک مریضوں اور انکے معاونین کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ جنہوں نے کامیاب آپریشن کے بعد اپنے جذبات کا اظہار فرمایا۔ کنج علی زئی کے نور حسن المعروف مادو لالا نے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بندہ کی دونوں آنکھوں میں فرق تھا۔ چیزیں صاف دکھائی نہیں دیتی تھیں، بہت مشکل میں مبتلا تھا۔ پشاور راستے میں خطروں نیز ناقابل برداشت کرایوں اور دیگر آخراجات کی وجہ سے تکلیف سہتا رہا۔ پھر گزشتہ ستمبر میں اللہ تعالی نے اپنی رحمت کے فرشتے بھیج دئے۔ ہم بیچاروں کو بھی اس سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ ایک آنکھ کا آپریشن پچھلی دفعہ کیا۔ اب اس آنکھ سے دور دور تک نہایت صاف اور شفاف دکھائی دیتا ہے۔ جبکہ آج دوسری آنکھ کے اپریشن کا بھی موقع نصیب ہوا۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کیمپ کے تمام منتظمین، ڈاکٹروں کی ٹیم، خصوصا امام خمینی ٹرسٹ کے چیئرمین علامہ سید افتخار حسین نقوی، ڈبلیو ایف ایڈ، تحریک حسینی اور اسکے سرپرست علامہ سید عابد الحسینی کا تہہ دل سے شکرگزار ہیں۔
کڑمان کے رہائشی امین حسین بھی مریضوں میں شامل تھے۔ آپریشن کے بعد اپنے دلی جذبات کے اظہار کے دوران اسکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ اپنی بات شروع نہیں کرپارہے تھے۔ بالآخر جب گفتگو شروع ہوئی تو کہا کہ پشاور تو کیا، بندہ تو اس ہسپتال کے اخراجات کا بھی متحمل نہیں ہوسکتا تھا۔ کافی عرصہ سے آنکھوں کا مسئلہ تھا۔ مگر غربت کی وجہ سے یہ عرصہ اندھیروں میں گزارا۔ مفت سہولیات کے ساتھ آپریشن کرانے کے بعد آج بہت ہی خوشی محسوس ہورہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مقامی سطح پر نفرتوں کی یہ حالت ہے، کہ بندہ پہلے تحریک حسینی کے نام سے الرجک تھا۔ تحریک اور اسکے رہنماؤں کے متعلق بھی منفی خیالات تھے۔ انہوں نے تحریک حسینی کے جملہ رہنماؤں، ڈاکٹروں کی پوری ٹیم، ڈبلیو ایف ایڈ، محسن اینڈ فوزیہ جعفر فاونڈیشن، بالخصوص ممبر اسلامی نظریاتی کونسل علامہ سید افتخار حسین نقوی کو ڈھیر ساری دعاؤں کے ساتھ تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
کنج علی زئی ہی کے نجف علی جو نہایت غریب شخص ہے، ان کا کہنا تھا کہ یہ کیمپ اللہ کی جانب سے رحمت کا باراں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی مرتبہ اپنی دائیں آنکھ کا اپریشن کرایا تھا۔ اس مرتبہ ایک رشتہ دار کے ساتھ آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن سے قبل ہر چیز دھندلی دکھائی دیتی تھی، جبکہ اب بالکل ٹھیک محسوس کررہا ہوں۔ گویا جوانی لوٹ گئی ہے۔ وہ نہایت خوش اور مطمئن تھا۔ بہت سے مومنین نے اپنے تاثرات ریکارڈ کرائے۔ ہر ایک کے منہ سے دعائیں نکل رہی تھیں۔ اہلیان کرم فوزیہ اینڈ جعفر فاونڈیش، ڈبلیو ایف ایڈ کے رہنماوں اور کارکنوں خصوصا علامہ سید افتخار حسین نقوی کے حق میں دعائیں دے رہے ہیں۔ مریضوں کے ساتھ بطور ویٹر تشریف لانے والوں میں سے اکثر کا مطالبہ تھا کہ پاراچنار جیسے محصور اور مجبور علاقے کے لئے ہر تین ماہ بعد متعدد شعبہ جات میں ایسے ہی ایک ایک کیمپ کا بندوبست کیا جانا چاہئے۔ بالخصوص ای این ٹی، جنرل سرجری، آرتھوپیڈک، جوڑوں کی درد اور گائنی شعبہ کی سرجری کے حوالے سے کیمپوں کا اہتمام کیا جانا چاہئے۔ کیمپ کے اختتام پر علامہ افتخار حسین نقوی کی نمائندہ ٹیم نے اپنے المہدی ہسپتال کی طرف سے جدید کیرو ٹو میٹر مشین بھی ہسپتال کو ڈونیٹ کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: افتخار حسین نقوی تحریک حسینی کے علامہ سید مریضوں کے کے آپریشن انہوں نے جنوری کو نے اپنے کے ساتھ کہا کہ کے بعد بجے تک
پڑھیں:
امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔
نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔
پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کیامریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔
Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9
— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026
ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔
نمائش 5 روز تک جاری رہے گی‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔
امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔
امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زورتقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔
أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.
شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu
— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔
لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔
ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زوروفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔
امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔
اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم