سپریم کورٹ بار نے جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی کے ڈنر پر ممبر کو شوکاز نوٹس جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
سپریم کورٹ بار نے جسٹس (ریٹائرڈ) شوکت عزیز صدیقی کے اعزاز میں 13 جنوری کو منعقد کیے گئے ڈنر کے معاملے پر نائب صدر سندھ ملک خوشحال خان اعوان کو شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے۔
مزید پڑھیں: جسٹس منصور شاہ جج نہیں رہے تو کوئی فرق نہیں پڑتا: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن
شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ریفرنس کے انعقاد سے قبل صدر یا سیکریٹری سے پیشگی منظوری حاصل نہیں کی گئی، جبکہ دعوتی کارڈز پر سپریم کورٹ بار کا نام اور علامت درج تھی۔ یہ اقدام بار اور ایگزیکٹو کمیٹی کی بدنامی کا باعث بنا ہے۔
نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ ایسوسی ایشن کسی بھی سیاسی پہلو کی سختی سے مذمت کرتی ہے اور ایگزیکٹو کمیٹی کی پیشگی منظوری کے بغیر اس طرح کا انعقاد قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی دارالحکومت کے قلب میں دھماکا سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے، سپریم کورٹ بار کی اسلام آباد دھماکے کی مذمت
سپریم کورٹ بار نے ملک خوشحال خان اعوان کو 7 دن کے اندر اپنی پوزیشن واضح کرنے کی ہدایت کی ہے اور بتایا ہے کہ مقررہ وقت کے اندر تسلی بخش جواب نہ دینے کی صورت میں ان کی رکنیت بھی معطل کی جا سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی سپریم کورٹ بار شوکاز نوٹس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی سپریم کورٹ بار شوکاز نوٹس سپریم کورٹ بار شوکاز نوٹس
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔