شہید ضیاء الدین رضوی، بصیرت، قومی غیرت اور شجاعت کا پیکر
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: شہید ضیاء الدین، ان مسائل کو ملت پاکستان کی زندگی اور موت کا مسئلہ سمجھتے تھے اور ان کے حل کیلئے آخری حد تک جانے کیلیے بھی تیار تھے۔ دشمن جانتا تھا کہ انہوں نے نظامِ تعلیم اور نصابِ تعلیم کی بات کرکے دشمن کی شہ رگ پر ہاتھ رکھا تھا، شہید سید ضیاء الدین رضوی فقط نصابِ تعلیم کے مسئلہ پر میدان میں نہیں آئے تھے بلکہ شہید کی ساری زندگی نظریہ پروری، اصلاحِ ملت، تبلیغِ دین اور جدوجہد سے عبارت ہے۔ رپورٹ: سید عدیل عباس
5 جنوری 2005ء کو دن کے تقریباً 12 بجے قریب قائد گلگت بلتستان علامہ سید ضیاء الدین رضوی نماز ظہرین ادا کرنے کیلئے گلگت جامع مسجد کی طرف اپنے گھر سے روانہ ہوئے تو راستے میں اچانک ان کی گاڑی پر تکفیری دہشتگردوں نے حملہ کردیا، اس حملہ میں آپ شدید زخمی ہوگئے، جبکہ دو محافظ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ تیسرا محافظ شدید زخمی ہوا۔ آپ کو وہاں سے زخمی حالت میں راولپنڈی منتقل کیا گیا، لیکن آپ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 13 جنوری کو شہید ہوگئے۔ علامہ سید ضیاء الدین رضوی کی شہادت کی وجہ آپ کی دوراندیشی، بصیرت، قومی غیرت، اجتماعی سوچ اور شجاعت بنی۔ آپ کا جُرم یہ تھا کہ آپ نصابِ تعلیم اور نظامِ تعلیم میں موجود خامیوں کو جان گئے تھے۔ شہید ضیاء الدین، ان مسائل کو ملت پاکستان کی زندگی اور موت کا مسئلہ سمجھتے تھے اور ان کے حل کیلئے آخری حد تک جانے کیلیے بھی تیار تھے۔ دشمن جانتا تھا کہ انہوں نے نظامِ تعلیم اور نصابِ تعلیم کی بات کرکے دشمن کی شہ رگ پر ہاتھ رکھا تھا، شہید سید ضیاء الدین رضوی فقط نصابِ تعلیم کے مسئلہ پر میدان میں نہیں آئے تھے بلکہ شہید کی ساری زندگی نظریہ پروری، اصلاحِ ملت، تبلیغِ دین اور جدوجہد سے عبارت ہے۔ علامہ سید ضیاء الدین رضوی کو جامع مسجد گلگت کے صحن میں سپرد خاک کیا گیا۔ مزید احوال اس ویڈیو رپورٹ میں ملاحظہ فرمائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید ضیاء الدین رضوی
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔