وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی،وزیراعلی بلوچستان کے ہمراہ شہید میجر انور کاکڑ کے گھر پہنچ گئے ؛ اہل خانہ سے تعزیت کی
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
سٹی 42: وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کی شہید میجر انور کاکڑ کی رہائش گاہ سپنی روڈ کاکڑ ٹاون پہنچ گئے ۔
محسن نقوی اور سرفراز بگٹی کی شہید میجر انور کاکڑ کی والدہ، بھائیوں اور کمسن بیٹوں سے ملاقات کی ۔ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ۔ محسن نقوی اور سرفراز بگٹی نے فتنہ الہندوستان کے بزدلانہ حملے میں جام شہادت نوش کرنے والے میجر انور کاکڑ کی عظیم قربانی کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔محسن نقوی اور سرفراز بگٹی نے شہید میجر انور کاکڑ کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی ۔
ایسا روبوٹ جو انسانوں کے ہونٹوں کی طرح حرکت دیکر باتیں کرسکتا ہے
محسن نقوی اور سرفراز بگٹی نے شہید میجر انور کاکڑ کی والدہ کے بلند حوصلے کو سراہا ۔وزیر داخلہ محسن نقوی کا شہید میجر انور کاکڑ کے بیٹوں سے شفقت کا اظہار ۔ پیار کیا اور دلاسہ دیا ۔
والدہ شہید میجر انور کاکڑ نے کہا میرا بیٹا شیر تھا۔ وطن پر قربان ہو گیا۔ بیٹے کی شہادت پر فخر ہے۔ 2 اور بیٹے بھی وطن کے لئے حاضر ہیں۔
ای چالان سے متعلق بڑی خوش خبری آ گئی!
محسن نقوی نے کہا شہید میجر انور کاکڑ کے دوسرے بیٹے کا بھی ایچیسن کالج میں داخلہ کرایا جائے گا۔ وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کا شہید میجر انور کاکڑ کے بھائی خدائیداد خان کو سرکاری ملازمت دینے کا اعلان کردیا۔ سرفراز بگٹی نے کہا ایک سکول کو شہید میجر انور کاکڑ کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔
محسن نقوی نے کہا آپ پاکستان کے بہادر بیٹے کی باہمت والدہ ہیں اور قوم کو آپ پر فخر ہے۔ آپ جیسی بلند حوصلہ والدہ کا جذبہ دیکھ کر ہمارا حوصلہ اور بڑھ گیا ہے، آپ کا عزم اور جذبہ ہی قوم کی اصل قوت ہے۔شہید میجر انور کاکڑ اور آپ ہمارے سر کا تاج ہیں۔ شہداء کے خون کا ایک ایک قطرہ وطن کے تحفظ کی ضمانت ہے.
گجرات میں ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن، پرویز الٰہی پر فرد جرم عائد
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ میجر انور کاکڑ نے قیمتی جان وطن پر نچھاور کی اور شہادت کا بلند رتبہ پایا۔ شہید میجر انور کاکڑ کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔شہید میجر انور کاکڑ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔شہداء قوم کا فخر اور سرمایۂ افتخار ہیں۔قوم اپنے ہیروز کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولے گی۔محسن نقوی اور سرفراز بگٹی کی شہید میجر انور کاکڑ کے اہل خانہ کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی ۔
اسناد اور ڈگریوں کے اجرا کا نظام ڈیجیٹلائز
صوبائی وزراء،چیف سیکرٹری بلوچستان ، آئی جی پولیس بلوچستان بھی اس موقع پر موجود تھے ۔واضح رہے کہ میجر انور کاکڑ کچھ عرصہ قبل کوئٹہ میں بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے بزدلانہ دھماکے میں شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے تھے
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: محسن نقوی اور سرفراز بگٹی شہید میجر انور کاکڑ کے میجر انور کاکڑ کی نے کہا
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔