معروف شاعر محسن نقوی کو مداحوں سے بچھڑے 30 برس بیت گئے
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک) معروف شاعر محسن نقوی کو اپنے مداحوں سے بچھڑے 30 برس بیت گئے۔
تنہائی اور درد کے شاعر محسن نقوی 5 مئی 1947ء کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے، ان کا پورا نام سید غلام عباس تھا، محسن نقوی کی رومانوی شاعری نوجوانوں میں بھی خاصی مقبول تھی، وہ شاعری کے علاوہ مرثیہ نگاری میں بھی مہارت رکھتے تھے۔
منفرد اسلوب کے حامل اس عہد ساز شاعر محسن نقوی نے ادب پر گہرے نقوش چھوڑے، ان کی تصانیف میں بند قبا، عذاب دید، خیمہ جان، برگ صحرا، طلوع اشک اور دیگر شامل ہیں، ان کی کئی غزلیں اور نظمیں آج بھی زبان زد عام ہیں اور اردو ادب کا سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔
ادب کا دمکتا چراغ 15 جنوری 1996ء کو بجھ گیا تاہم شاعری کی صورت میں اس کی روشنی ہمیشہ زندہ رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شاعر محسن نقوی
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔