شدید سردی کی لہر؛ پنجاب کے اسکولز میں مزید تعطیلات سے متعلق حکومت کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
لاہور:
پنجاب کے سرکاری و نجی اسکولز میں مزید تعطیلات سے متعلق صوبائی حکومت نے وضاحتی بیان جاری کر دیا ہے۔
اس سے قبل، 10 جنوری کو صوبے کے اسکولز میں ایک ہفتے کے لیے چھٹیوں میں توسیع کی گئی تھی۔
صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے اس حوالے سے وضاحت دی ہے کہ پنجاب میں موسم سرما کی چھٹیوں میں کوئی توسیع نہیں کی جائے گی، اسکولز اگلے ہفتے ہی کھلیں گے۔
مزید پڑھیںسرد موسم کی شدت؛ تعلیمی اداروں میں چھٹیاں ایک ہفتہ بڑھا دی گئیں
پنجاب کے تعلیمی اداروں میں چھٹیوں میں توسیع سے متعلق وزیر تعلیم کی وضاحت
رانا سکندر حیات نے واضح کیا کہ موسم سرما کی چھٹیوں میں توسیع سردی کی شدت کے پیش نظر کی گئی تھی۔
صوبائی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ پولز کے رزلٹ، انوائرمنٹ ڈپارٹمنٹ اور پی ڈی ایم اے کو ساتھ بٹھا کر یہ فیصلہ کیا گیا۔
واضح رہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں آئندہ ہفتہ وقفے وقفے سے بارش اور برفباری کا امکان ہے جس کے حوالے سے این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمر جنسیز آپریشن سینٹر نے گلگت بلتستان، بالائی خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں ممکنہ شدید سردی کی لہر کا الرٹ بھی جاری کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چھٹیوں میں
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔