عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں کئی ماہ کی بلند ترین سطح کے بعد کمی دیکھنے میں آئی، جبکہ سونا بھی اپنی تاریخی بلند ترین سطح سے نیچے آ گیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ فیوچرز 3.4 فیصد کی کمی کے بعد 64.
اس کمی کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق مارکیٹ میں پائی جانے والی بے چینی کو کم کرنے کی کوششیں بتائی جاتی ہیں۔
ایشیا کی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی بدھ کے بعد مندی کا رجحان برقرار رہا، خاص طور پر ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے متعلقہ اسٹاکس پر دباؤ محسوس کیا گیا، کیونکہ سرمایہ کار تیزی سے بڑھتے ہوئے سیکٹرز سے اپنے اثاثے منتقل کر کے دیگر شعبوں میں مواقع تلاش کرتے رہے۔ جاپان میں نکی انڈیکس 0.9 فیصد کم ہوا، جبکہ ٹاپکس انڈیکس نے 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ نئی ریکارڈ سطح قائم کی۔
کرنسی مارکیٹ میں بھی وقتی عدم استحکام دیکھا گیا، جہاں جاپانی ین امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ترین سطح 158.44 پر پہنچ گیا، تاہم حکومتی مداخلت کے خدشات اور مالیاتی خبروں کے اثر سے اس میں کچھ بہتری دیکھی گئی۔
جاپانی وزیرِ خزانہ ساتسوکی کاتایاما نے خبردار کیا کہ غیر معمولی زرِ مبادلہ کی حرکات کے خلاف تمام ممکنہ اقدامات اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
سونے کی قیمت میں بھی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، اور یہ 0.5 فیصد کمی کے بعد تقریباً 4 ہزار 598 ڈالر فی اونس پر آ گئی، حالانکہ بدھ کو اس نے 4 ہزار 642.72 ڈالر تک کی تاریخی بلند ترین سطح عبور کی تھی۔
ادھر امریکی ڈالر دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم رہا، اور ڈالر انڈیکس 99.137 کے ساتھ معمولی اضافے کا شکار ہوا۔ جاپان کے 20 سالہ بانڈ کی ییلڈ میں بھی کمی دیکھی گئی اور یہ 3.135 فیصد پر آگئی، جو گزشتہ سیشن میں ریکارڈ 3.165 فیصد تک پہنچ چکی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی مارکیٹ میں جغرافیائی سیاسی تناؤ، فوجی اور اقتصادی خبروں کا توازن قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈال رہا ہے۔ سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر کے متنوع شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ تیل، سونا اور کرنسی کی غیر یقینی صورتحال سے محفوظ رہ سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔