Express News:
2026-07-24@05:02:02 GMT

اقرار الحسن نے نئی جماعت کے قیام اور نام کا اعلان کردیا

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

معروف اینکر اقرار الحسن نے نئی سیاسی جماعت کے قیام اور نام کا اعلان کردیا۔

لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران اقرار الحسن نے اپنی نئی سیاسی جماعت کے نام ’پاکستان عوام راج تحریک‘ کا اعلان کیا۔

اقرار الحسن نے اعلان کیا کہ ’میں کبھی کوئی سیاسی، پارٹی عہدہ یا پھر سرکاری پوزیشن نہیں لوں گا‘۔

انہوں نے کہا کہ میں اللہ اور اُن کے نبی کو گواہ بناکر کہتا ہوں کہ پارٹی یا سرکاری سطح پر کوئی عہدہ نہیں لوں گا۔

مزید پڑھیں

عمران خان کے منظر سے ہٹنے اور خاتمے کا وقت قریب آرہا ہے، اقرار الحسن کا دعویٰ

اقرار الحسن کا نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان

اقرار الحسن کی تیسری بیوی کی پہلی اہلیہ سے محبت پر دلچسپ گفتگو وائرل

اقرار الحسن کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے ہماری پارٹی پاکستان میں نئی سیاسی تبدیلی لے کر آئے گی اور ہم روایتی سیاست کے رواج کو توڑ کر عوام کیلیے امید بنیں گے۔

میں اللہ ک گواہ بنا کر قسم کھاتا ہوں ساری زندگی کوئی سرکاری عہدہ نہیں لوں گا، کوئی سیاسی عہدہ نہیں لوں گا، کچھ بھی ہو جائے کوئی عہدہ نہیں لوں گا، میں کام فکری اور شعوری کام کرنا ہے، اقرار الحسن کا پریس کلب اعلان pic.

twitter.com/PKekRHSdwV

— Shakir Mehmood Awan (@ShakirAwan88) January 15, 2026

انہوں نے ساتھ میں یہ بھی اعلان کیا کہ میں کسی دوسری یا اپنی پارٹی سے کوئی فائدہ بھی حاصل نہیں کروں گا۔ اقرار الحسن نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ اپنی جماعت کی سرگرمیاں جلد ملک بھر میں شروع کریں گے۔

اینکر سے سیاست دان بننے والے اقرار الحسن کا کہنا ہے کہ ہماری پارٹی ایک جمہوری پلیٹ فارم ہے جس کے مالک پاکستان کے عوام ہیں اور دیگر جماعتوں کی طرح کوئی خاندان یا شخصیت اسکا وارث نہیں ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عہدہ نہیں لوں گا اقرار الحسن نے اقرار الحسن کا اعلان کیا نئی سیاسی کا اعلان

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا