ایمان مزاری اورہادی علی چٹھہ کوگرفتارکرنےکاحکم
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد :عدالت نے متنازع ٹویٹس کیس میں انسانی حقوق کی سرگرم وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا، دونوں کا جرح کا حق بھی ختم کر دیا گیا۔
ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹس کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے کی۔
ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ ایمان مزاری گواہ شہروز پر خود جرح کرنا چاہتی ہیں، شہروز پر ایمان مزاری خود کچھ سوالات کرنا چاہتی ہیں، جس پر جج افضل مجوکا نے کہا کہ گواہ شہروز پر جرح مکمل کریں ورنہ جرح کا حق ختم کر دوں گا۔
اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چودھری نعیم گجر عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ پیر کی تاریخ دے دیں اس کے بعد کوئی التوا نہیں مانگا جائے گا۔
ایمان مزاری کی طبیعت خراب ہے، وہ خود جرح کرنا چاہتی ہیں، تاہم پراسیکوشن نے التوا دینے کی مخالفت کی اور موقف اپنایا کہ عدالت گواہ سے حلف لے اور جرح شروع کرے۔
دورانِ سماعت نعیم گجر اور پراسیکوٹر رانا عثمان کے درمیان کمرہ عدالت میں شدید تلخ کلامی ہوگئی، ایڈووکیٹ نعیم گجر نے کہا کہ تم لے کر دکھائو حلف، میں دیکھتا ہوں کیسے لیتے ہو، میں بار کا صدر ہوں تمہارے باپ کا نوکر نہیں، آنکھیں وہاں دکھانا جہاں سے تم ہو کر آئے ہو، تم لو حلف ٹانگیں توڑ کر بجھوائوں گا۔
بتایا جارہا ہے کہ عدالت میں بار صدر نعیم گجر اور پراسیکوٹر رانا عثمان کے درمیان تلخی بڑھنے پر جج افضل مجوکا اٹھ کر چیمبر میں چلے گئے اور کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا۔
وقفے کے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش نہ ہوئے، پراسیکوٹر رانا عثمان نے کہا کہ عدالت میں آفیسر آف دی کورٹ پر ہاتھ اٹھایا گیا، نعیم گجر بار کا صدر ہے یا غنڈہ ہے۔
بعد ازاں عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منسوخ کر دی اور ملزمان کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا اور کیس کی سماعت ایک دن کے لیے تک ملتوی کردی ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں کہا کہ
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔