—فائل فوٹو

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے  متنازع ٹوئٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹوئٹس کیس کی سماعت ہوئی جس میں ہادی علی چٹھہ پیش ہوئے۔

دوران سماعت ہادی علی چٹھہ نے کہا کہ ایمان مزاری گواہ شہروز پر خود جرح کرنا چاہتی ہیں۔ جس پر جج افضل مجوکا نے کہا کہ گواہ شہروز پر جرح مکمل کریں ورنہ جرح کا حق ختم کر دوں گا۔

متنازع ٹوئٹ کیس، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی 3 متفرق درخواستیں خارج

شیر افضل مروت نے عدالت سے استدعا کی کہ دفعہ 342 کے جوابات جمع کرانے کے لیے ایک دن کا وقت دیا جائے۔

اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری نعیم گجر نے کہا کہ پیر کی تاریخ دے دیں اس کے بعد کوئی التوا نہیں مانگا جائے گا، ایمان مزاری کی طبیعت خراب ہے وہ خود جرح کرنا چاہتی ہیں۔

پراسیکیوشن کی جانب سے التوا دیے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا گیا کہ عدالت گواہ سے حلف لے اور جرح شروع کرے۔

بار کے صدر نعیم گجر اور پراسیکیوٹر راناعثمان کے درمیان کمرۂ عدالت میں تلخ کلامی ہو گئی، نعیم گجر اور پراسیکیوٹر میں تلخی بڑھنے پر جج افضل مجوکا اٹھ کر چیمبر میں چلے گئے۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ وقفہ کے بعد عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس کے بعد عدالت نے ملزمان کا جرح کا حق بھی ختم کر دیا۔

عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ کل 342 کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کہا کہ

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم