وزیرِ مملکت برائے خزانہ کا کاروباری برادری سے مشاورتی اجلاس، سرمایہ کاری اور کاروباری ماحول بہتر بنانے پر زور
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے پاکستان کی کاروباری برادری کے نمائندوں کے ساتھ ایک اہم مشاورتی اجلاس کی صدارت کی۔ یہ اجلاس اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے تحت کاروباری حلقوں سے جاری رابطوں کے سلسلے کا تسلسل تھا۔
اجلاس میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (APTMA)، پاکستان بزنس کونسل (PBC)، ایف پی سی سی آئی سمیت کراچی، لاہور، فیصل آباد، کوئٹہ، سرحد، راولپنڈی اور سیالکوٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدور اور نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ ایس آئی ایف سی، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، وزارتِ تجارت، وزارتِ صنعت، وزارتِ پیٹرولیم اور وزارتِ توانائی کے نمائندے بھی موجود تھے۔اجلاس میں پاکستان میں کاروباری ترقی کو متاثر کرنے والی اہم رکاوٹوں اور پالیسی چیلنجز پر تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ مجموعی معاشی اور سرمایہ کاری ماحول کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔
خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 13 بھارتی حمایت یافتہ خارجی ہلاک
وزیرِ مملکت نے کاروباری برادری کو یقین دلایا کہ حکومت نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے لیے ایک مستحکم، شفاف اور قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار معاشی بحالی اور برآمدات پر مبنی ترقی حکومت کی حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ ہے، جس میں پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے درمیان مضبوط تعاون اور ادارہ جاتی سہولت کاری کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔کاروباری برادری کے نمائندوں نے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے فعال اور مسئلہ حل کرنے والے کردار کو سراہا اور کہا کہ اس فورم نے کاروباری سرگرمیوں میں آسانی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ شرکاء نے اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانے اور کاروبار میں آسانی کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل مکالمے کی اہمیت پر زور دیا۔
پنجاب بیدار ہوگیا، بااختیار بلدیاتی نظام کے مطالبے کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی، حافظ نعیم الرحمان
اجلاس کے دوران کاروباری برادری نے ریگولیٹری عمل سے متعلق بعض مسائل اور مشکلات کی نشاندہی بھی کی۔ وزیرِ مملکت نے ان خدشات کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ وہ مشترکہ اور مربوط اقدامات کے ذریعے ان مسائل کے فوری اور مؤثر حل کو یقینی بنائیں۔وزیرِ مملکت نے گزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ وزارتوں و محکموں کی کوششوں کو سراہا۔ اجلاس کے اختتام پر باقی ماندہ اور نئے اُٹھائے گئے مسائل کے حل کے لیے آئندہ کے واضح لائحہ عمل پر اتفاق کیا گیا، جبکہ کاروباری برادری کے ساتھ تعمیری اور باقاعدہ رابطے کے تسلسل کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔
اکیلا پن صرف درد یا مشکل نہیں زندگی کی حقیقت، فکری تجربہ اور اخلاقی تعلیم بھی ہے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کاروباری برادری کے لیے
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند