اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی ڈیجیٹل مالیاتی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی دلچسپی کو سراہتے ہوئے پاکستان کے تیزی سے عالمی ڈیجیٹل فنانس کا حصہ بننے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف سے امریکی کمپنی ”ورلڈ لبرٹی فنانشل“ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زچری وٹکوف کی قیادت میں وفد نے بدھ کو یہاں ملاقات کی جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے خصوصی معاون سید طارق فاطمی اور چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ڈیجیٹل ادائیگیوں میں جدت کے لئے پاکستان کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے۔ وزیراعظم نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ڈیجیٹل پاکستان کے حوالے سے اپنا وژن پیش کیا جس کا مقصد شہریوں کو زیادہ بہتر رابطوں، رسائی اور شفاف ذرائع کی سہولت کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور مالیاتی جدت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی رفتار پاکستان کی وسعت اختیار کرتی ڈیجیٹل معیشت کا ایک اہم جزو ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کی ڈیجیٹل مالیاتی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی دلچسپی کو سراہتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان تیزی سے عالمی ڈیجیٹل فنانس کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ اس موقع پر زچری وٹکوف نے محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون میں گہری دلچسپی ظاہر کی جس میں سرحد پار ادائیگیوں اور زر مبادلہ کے عمل میں جدت شامل ہے۔ انہوں نے پاکستان کے پالیسی فریم ورک کو سراہا جس کی بدولت پاکستان عالمی ڈیجیٹل فنانس کے منظرنامے میں تیزی سے ابھر رہا ہے۔ انہوں نے آئندہ دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیجیٹل ادائیگیوں اور سرحد پار لین دین میں جدت کے امکانات تلاش کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر حکومت پاکستان اور ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز ایل ایل سی (جو ورلڈ لبرٹی فنانشل کی منسلک کمپنی ہے) کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زچری وٹکوف نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے۔ اس مفاہمتی یادداشت کا مقصد سرحد پار لین دین کے لیے درکار ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام پر باضابطہ بات چیت اور تکنیکی مہارت کو فروغ دینا ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے سول سروس کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لئے اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کارکردگی جانچنے کا جامع اور موثر نظام وضع کرنے کیلئے سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مجوزہ سول سروسز اصلاحات اور وزارتوں میں کارکردگی کی جانچ کے نظام کی سفارشات کا جائزہ لینے کیلئے جائزہ اجلاس بدھ کو یہاں منعقد ہوا۔ وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سول سروس کو بین الاقوامی معیار اور عالمی سطح کی کارکردگی سے ہم آہنگ کرنے کے لئے اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے وفاقی سیکرٹریز کی کارکردگی جانچنے کے لئے جامع اور موثر نظام کی سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسروں کی تحسین سول سروسز کی مجموعی بہتری کے لئے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ متعلقہ کمیٹی سول سروس میں ارتقائی مگر موثر اور جامع اصلاحاتی سفارشات جلد از جلد مرتب کرے۔ افسروں کی کارکردگی کی جامع جانچ کی بنیاد پر ان کی ترقی، مالی فوائد اور دیگر مراعات کا نظام وضع کرنے کے لئے سفارشات مرتب کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سول سروس میں اصلاحات کا مقصد موثر عوامی خدمت اور سہولیات کی فراہمی کے ذریعے عوام کی زندگی میں واضح بہتری کو یقینی بنانا ہے، علاوہ ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کم عمر ترین مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل ارفع کریم رندھاوا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ارفع کریم پاکستانی نوجوانوں کی ذہانت اور ان میں بے پناہ صلاحیتوں کی روشن مثال تھیں۔ ارفع کریم رندھاوا کی برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ ارفع کریم نے نہایت کم عمری میں عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ارفع کریم رندھاوا نے یہ ثابت کیا کہ پاکستانی نوجوان کسی سے کم نہیں، ان کی کامیابیاں آج بھی ہمارے نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ارفع کریم کا خواب ایک جدید، علم اور ٹیکنالوجی سے آراستہ پاکستان تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ لاہور میں تعمیر شدہ سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کو ارفع کریم سے منسوب کرنا ہمارے لیے باعث فخر ہے۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ معاشی استحکام آگیا ، اب ترقی کیلئے اقدامات کریں گے، پاکستان خوشحالی کے سفر پر گامزن ہوگا ، دہشت گردی کا مکمل صفایا کریں گے ، معرکہ حق کے بعد دنیا میں ہمارے طیاروں کی مانگ بڑھ گئی، دفاعی پیداوار کی صنعت کو فروغ ملے گا، کراچی تا چمن شاہراہ اور بلوچستان میں سات دانش سکولز کی تعمیر ایک سال میں مکمل ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اپنے ابتدائی کلمات میں کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط خوش آئند ہے، اس ایم او یو سے ملکی معیشت کو فائدہ ہو گا اور بین الاقوامی ٹرانزیکشن میں آسانی آئے گی، پاکستان نے مختصر عرصہ میں اس حوالے سے بڑی پیشرفت کی ہے۔ اب ڈیجیٹل کرنسی اور ڈیٹا سنٹر کے ذریعے ٹرانزیکشن ممکن ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر جس کی بہت پہلے سے ضرورت تھی اب اس کا آغاز ہو جائے گا۔ وزیراعظم نے پاکستان ایئر فورس کو تیمور ویپن سسٹم اور پاک بحریہ کو ایل وائی 80 کے کامیاب تجربے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں کامیابی کے بعد دنیا میں ہمارے لڑاکا طیاروں کی مانگ بڑھ گئی ہے، بہت سے ممالک طیاروں کے حصول کیلئے بات چیت کر رہے ہیں، ہماری دفاعی پیداوار کی صنعت کو اس سے تقویت ملے گی۔ وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف بلوچستان اور خیبر پی کے میں افواج پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور رینجرز کی کامیابی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا مکمل صفایا کر کے دم لیں گے، پاکستان کامیاب ہو گا۔ انہوں نے کابینہ کو اپنے دورہ کوئٹہ سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ این 25 شاہراہ، کراچی تا چمن جو 850 کلومیٹر طویل ہے، کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ ایک سال میں مکمل ہو گا اور وفاق اس پر 400 ارب روپے خرچ کرے گا، یہ وہ پیسہ ہے جو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں گرنے کے بعد فائدہ عوام کو منتقل کرنے کی بجائے اس شاہراہ کی تعمیر کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا کہ بلوچستان میں 75 ارب روپے کی لاگت سے کسانوں کیلئے زرعی پکیج کا منصوبہ بھی مکمل ہو چکا ہے جس کیلئے وفاق نے 50 ارب روپے فراہم کئے۔ سولر پینلز کے استعمال کے بعد بجلی چوری ختم ہو گئی ہے، اب کسانوں کو سولر سے زراعت کیلئے پانی مل رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں سات دانش سکولوں کی تعمیر کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے، یہ منصوبہ بھی ایک سال میں مکمل ہو گا۔ انہوں نے وفاقی کابینہ کو ایک لاکھ لیپ ٹاپس کی تقسیم اور ہزاروں طلباء کی اعلیٰ تعلیم کیلئے وظائف کی فراہمی کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں معاشی استحکام آ گیا ہے، اب ترقی کیلئے اقدامات کریں گے۔ معاشی نمو کا دور شروع ہو گا اور پاکستان ترقی و خوشحالی کے سفر پر گامزن ہو گا۔ دریں اثناءورلڈ لبرٹی فنانشل امریکا کے اعلیٰ سطح کے وفد نے معروف عالمی فن ٹیک کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زچری وٹکوف کی سربراہی میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی، جس کا مقصد مالی شمولیت کے فروغ اور سرحد پار ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے امریکی کمپنی کے وفد کی ملاقات میں پاکستان کے بدلتے ہوئے معاشی منظرنامے میں بین الاقوامی نجی سرمایہ کاری گروپس کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ ملاقات پاکستان کے فن ٹیک شعبے میں عالمی اعتماد میں اضافے کی بھی عکاس ہے اور اس ملاقات کا مقصد مالی شمولیت کے فروغ اور سرحد پار ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ زچری وٹکوف نے پاکستان میں موجود وسیع معاشی امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے مستقبل کی ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے پاکستان کی قیادت کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے سے پاکستان اپنی معاشی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں بروئے کار لا سکتا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے خیالات کے تبادلے کو خوش آئند قرار دیا اور پاکستان کے معاشی استحکام، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور قومی ترقی میں ذمہ دار نجی شعبے کی شمولیت کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور وزیر اعظم شہباز شریف کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں مشرق وسطیٰ کی حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو قطر کے امیر نے ٹیلی فون کیا۔ دونوں رہنماو ں نے پاک قطر تعلقات کی موجودہ رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم آفس نے بتایا کہ ٹیلیفونک گفتگو میں دونوں رہنماو ں نے مشرق وسطیٰ کی حالیہ پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے خطے میں مذاکرات اور ثالثی میں قطر کے فعال کردار کو سراہا اور کشیدگی کم کرنے کے لیے قطر کی بامعنی کوششوں کا اعتراف کیا۔ وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماو ں نے قریبی رابطے میں رہنے پر بھی اتفاق کیا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اعظم محمد شہباز شریف چیف آف ڈیفنس فورسز وزیراعظم نے کہا کہ ورلڈ لبرٹی فنانشل ڈیجیٹل ادائیگیوں مفاہمتی یادداشت اعظم شہباز شریف وزیراعظم آفس کے ڈیجیٹل مالیاتی اعظم نے کہا کہ شہباز شریف نے کے مطابق وزیر بین الاقوامی کا اظہار کیا نے پاکستان پاکستان کے فیلڈ مارشل پاکستان کی بڑھتی ہوئی زچری وٹکوف کرتے ہوئے سول سروس انہوں نے سرحد پار مکمل ہو کے ساتھ کا مقصد کرنے کے تیزی سے کرنے کی کے بعد کے لیے کے لئے رہا ہے

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم