سول سروسز کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اصلاحات ناگزیر ہیں، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت کی اصلاحاتی اور عوام کی فلاح و بہبود پر مشتمل پالیسیوں کا ثمر عوام تک پہنچانے کے لیے سول سروسز کو بنیادی ڈھانچہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سول سروسز کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں۔
وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سول سروسز میں مجوزہ اصلاحات کی پیش رفت پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا جہاں وزیراعظم نے سول سروسز اصلاحات پر کام کرنے والی کمیٹی کو افسران کی کارکردگی کی جامع جانچ کی بنیاد پر ترقی، مالی فوائد اور دیگر سہولیات کے نظام کی سفارشات مرتب کرنے کی خصوصی ہدایات دیں۔
انہوں نے کہا کہ سول سروسز اصلاحات، ملکی معاشی و معاشرتی، ترقی و خوش حالی کے لیے ناگزیر ہیں اور حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی اصلاحاتی اور عوام کی فلاح و بہبود پر مشتمل پالیسیوں کا ثمر عوام تک پہنچانے کے لیے سول سروسز ایک بنیادی ڈھانچے کا کردار ادا کرتی ہے، ملکی سول سروس کو بین الاقوامی معیار اور عالمی سطح کی کارکردگی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے ہدایت کی کہ وفاقی سیکریٹریز کی کارکردگی جانچنے کے لیے جامع اور مؤثر نظام کی سفارشات مرتب کی جائیں، اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران کی تحسین سول سروسز کی مجموعی بہتری کے لیے نہایت ضروری ہے اور متعلقہ کمیٹی ملکی سول سروس میں ارتقائی مگر مؤثر اور جامع اصلاحاتی سفارشات جلد از جلد مرتب کرے۔
وزیراعظم نے کہا کہ افسران کی کارکردگی کی جامع جانچ کی بنیاد پر ان کی ترقی، مالی فوائد اور دیگر سہولیات کے نظام کی سفارشات کو مرتب کیا جائے، ملکی سول سروس میں اصلاحات کا مطمع نظر مؤثر عوامی خدمت اور سہولیات کی فراہمی کی بدولت عوام کی زندگی میں واضح بہتری کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی معاشی آسودگی اور سماجی ہم آہنگی ترقی و خوش حالی کے لیے ہمہ جہت سول سروس اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، سول سروس کی مجوزہ اصلاحات میں سول انتظامیہ، تمام سروسز اور گروپس کے اسٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملکی سول سروس کسی بھی ملک کی گورننس اور عوامی فلاح و بہبود کا بنیادی ڈھانچہ ہوتی ہے، افسران کی کارگردگی اور قابلیت کو دور حاضر کے عصری تقاضوں اور عالمی سطح کے معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے خصوصی سفارشات مرتب کی جائیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ سول سروسز اصلاحات کے لیے قائم کردہ کمیٹی ایسی سفارشات تجویز کریں جو قابل عمل اور دیر پا اور مؤثر عوامی سہولت کا باعث بنے۔
قبل ازیں سول سروسز اصلاحات پر قائم کردہ کمیٹی نے وزیراعظم کو اب تک کی مشاورت اور سفارشات پر اجلاس میں بریفنگ دی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ احسن اقبال، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور متعلقہ سرکاری عہدے داران نے شرکت کی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل سول سروسز اصلاحات ملکی سول سروس کی کارکردگی ناگزیر ہیں وفاقی وزیر افسران کی نے کہا کہ حکومت کی کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔