15 جنوری کو ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بند ہوں گی؟ پی ٹی اے کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کہا ہے کہ 15 جنوری کو ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر فعال رہیں گی۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 15 جنوری کو انٹرنیٹ سروسز کے متاثر ہونے سے متعلق پھیلائی جانے والی خبریں غلط اور بے بنیاد ہیں۔
پی ٹی اے نے اعلامیے میں کہا کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز معمول کے مطابق فعال رہیں گی، روٹین سب میرین کیبل کی مرمت کا عمل جاری ہے۔
مزید پڑھیںپی ٹی اے نے موبائل سم کی صارف کے نام پر رجسٹریشن لازمی قرار دیدی
پی ٹی اے کا بیرون ملک سے لائے گئے موبائل فون پر نافذ ٹیکسز کم کرنے کا مشورہ
اتھارٹی کے مطابق سب میرین کیبل کی مرمت سے انٹرنیٹ سروسز متاثر نہیں ہوں گی۔ پی ٹی اے نے کہا کہ انٹرنیٹ سروسز کے تسلسل اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے نیٹ ورکس کی مسلسل نگرانی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انٹرنیٹ سروسز پی ٹی اے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔