ایلون مسک کا اسٹار لنک سے مفت انٹرنیٹ فراہم کا اعلان؛ ایران نے ڈیوائسز ضبط کرلیں
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
بڑھتے ہوئے مظاہروں کی شدت اور امریکی حملوں کی دھمکیوں کے دوران ایران نے ملک بھر میں ایلون مسک کی انٹرنیٹ کمپنی اسپیس ایکس کے خلاف سخت کاروائی کی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور سائبر کرائم نے ملک بھر میں امریکی کمپنی اسٹار لنک (Starlink) کی سیٹلائیٹ انٹرنیٹ ڈیوائسز بڑی تعداد میں ضبط کرلی ہیں۔
اسٹار لنک ڈیوائسز خصوصی طور پر سیٹلائیٹ براڈ بینڈ کنکشن فراہم کرتی ہیں جو روایتی انٹرنیٹ نیٹ ورک سے بالکل مختلف ہوتی ہیں اور حکومت کی سخت انٹرنیٹ بندش کے باوجود معلومات تک رسائی ممکن بناتی ہیں۔
ایران میں جب مظاہروں نے شدت اختیار کی تو حکومت نے انٹرنیٹ کی بندش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ بیرون ملک سے دہشت گردی کی کارروائیوں کے احکامات مل رہے تھے جس پر یہ اقدام ناگزیر تھا۔
جب ایران میں کئی روز تک انٹرنیٹ بند رہیں تو ایلون مسک نے اپنی کمپنی اسٹار لنک کے سٹیلائٹس کی مدد سے براہ راست انٹرنیٹ کی فراہمی مبینہ طور پر مفت شروع کی تاکہ مظاہروں کو ہوا ملے۔
جس پر ایران کی ایجنسیز فعال ہوئیں اور اسٹار لنک سے جڑے آلات کے خلاف گھر گھر چھاپے مارے گئے اور ڈیوائسز کو ضطب کرلیا گیا۔
ان کارروائیوں میں نہ صرف اسٹار لنک ٹرمینلز بلکہ دوسرے سیٹلائیٹ ڈشز اور مواصلاتی آلات کو بھی ضبط کیا گیا جو حکومت کے نزدیک غیر قانونی شمار کیے جاتے ہیں۔
ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ اسٹار لنک جیسے آلات انسدادِ شورش اور معلوماتی جنگ کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔
یاد رہے کہ ایران میں اسٹار لنک کی سروس غیر قانونی ہے اور اسے ملک میں لانا، استعمال کرنا یا بیچنا پہلے ہی ممنوع قرار دیا جا چکا تھا۔
جس کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں حتیٰ کہ کچھ رپورٹس میں اس کی حد قید یا جاسوسی الزامات تک بتائی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسٹار لنک
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔