بحر فیز سیون :چوکی پر تعینات پولیس اہلکاروں کی طرف سے بھتہ وصولی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
بحر فیز سیون :چوکی پر تعینات پولیس اہلکاروں کی طرف سے بھتہ وصولی کا انکشاف WhatsAppFacebookTwitter 0 15 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )بحریہ چوکی فیز سیون راولپنڈی میں پولیس اہلکاروں کی طرف سے شہریوں کو ہراساں کرنے اور بھتہ وصولی کا انکشاف،تفصیلات کے مطابق چوکی پر تعینات دو اہلکار مسلسل شہریوں کو ہراساں کر رہے ہیں اور بھتہ وصول کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق اہکاروں کا تعلق تھانہ روات سے ہے اور یہ چوکی ان کی حدود سے بھی باہر ہے۔شہریوں نے پولیس اہلکاروں کی سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور آئی جی ،ڈی آئی جی ،ایس ایچ او اور چوکی انچارچ سے درخواست کی ہے کہ وہ بھتہ خور اہلکاروں سے ان کی جان چھڑائیں اور شہریوں کو مسلسل اذیت نے تجات دلائیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرڈائریکٹر ڈریپ محمد اختر عباس خان کو وزارت صحت میں اضافی ذمہ داری سونپ دی گئی ، تفصیلات دستاویز سب نیوز پر ڈائریکٹر ڈریپ محمد اختر عباس خان کو وزارت صحت میں اضافی ذمہ داری سونپ دی گئی ، تفصیلات دستاویز سب نیوز پر ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: انگلینڈ کے پاکستانی نژاد کرکٹرز بھی تاحال بھارتی ویزے سے محروم اسلام آباد میں گاڑیوں پر ایم ٹیگ کی ڈیڈ لائن ختم، ڈی جی ایکسائز کا اہم فیصلہ مقبوضہ کشمیر: بھارتی حکومت نے مسلم طلبا کو زیادہ داخلے ملنے پر میڈیکل کالج بند کر دیا امریکاجون جیسی غلطی نہ دہرائے، ہمارے عزم کو بمباری سے نہیں توڑا جاسکتا: ایرانی وزیر خارجہ آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا، عمران خان جلد رہا ہوں گے، سہیل آفریدیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پولیس اہلکاروں کی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔