8 فروری احتجاج کی تیاری کے لیے کمیٹیاں تشکیل؛ ذمہ داریاں سونپ دی گئیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
سٹی 42:تحریک تحفظ آئین (صدر محمود خان اچکزئی) کی جانب سے 8 فروری کے دن ہڑتال اور احتجاج پر تیاری کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے دی ۔
اپوزیشن نے علاقائی اور سینٹرکی الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دی ۔مرکزی کمیٹی کی سربراہی مصطفیٰ نواز کھوکھر کر یں گے۔پی ٹی آئی کے ہر صوبے کا صدر یا چیف آرگنائزر مقامی کمیٹیوں کی سربراہی کریں گے ۔ پنجاب کی سربراہی عالیہ حمزہ ، خیبر پختونخواہ سے جنید اکبر ، بلوچستان سے قہار ودان ،سندھ سے ذین شاہ اور حلیم عادل شیخ ہوں گے ۔
لاہور میں 187 ٹریفک حادثات؛ 217 افراد زخمی
اسلام آباد سے عامر مغل ، گلگت بلتستان سے شاہ نذیر ، آزاد کشمیر سے عبدالقیوم نیازی ، اوورسیز کمیٹی کے سجاد برکی سوشل میڈیا پر جبران الیاس اور اظہر مشوانی سربراہ ہوں گے ۔مرکزی کوآرڈینیشن و ایڈمن کمیٹیتحریک کی مرکزی کوآرڈینیشن کمیٹی ہڑتال کی مکمل نگرانی، رہنمائی اور رابطہ کاری کے فرائض انجام دے گی۔
کمیٹی تمام صوبائی و علاقائی کمیٹیوں کے ساتھ براہِ راست رابطے میں رہے گی ۔مرکزی کمیٹی ہڑتال کی تیاریوں، پیش رفت اور نتائج کا جائزہ لے گی۔ ۔
پنجاب میں پتنگ بازی پر پابندی ؛ خلاف ورزی پر قید اور جرمانے ہوں گے ؛ محکمہ داخلہ پنجاب
سنٹرل کمیٹی ملک بھر میں ہونے والی ہڑتال کی سرگرمیوں کی نگرانی، کسی بھی غیر متوقع صورت حال کے لیے فوری اقدامات یقینی بنائے گی۔ہڑتال کو یقینی بنانے کے لیے تمام صوبائی، علاقائی اور ضلعی کمیٹیوں کو احتجاجی مہم چلانے، شٹر ڈاؤن کو منظم کرنے اور پہیہ جام کی مؤثر منصوبہ بندی کرنے کی ہدایت کی ۔
کمیٹیاں فوری طور پر عوام ، تاجروں، مزدوروں، طلبہ، وکلاء، اور دیگر پیشہ ورانہ تنظیموں و شعبہ زندگی سے رابطہ قائم کریں گی
اقرار الحسن کا ’عوام راج ‘تحریک کا اعلان
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔