data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ا ے سی سی اے(ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس) آئندہ ہفتے پاکستان لیڈرشپ کنورسیشن (PLC) کے آٹھویں ایڈیشن کی میزبانی کرے گا، جس میں سینئر پالیسی سازوں، ریگولیٹرز، کاروباری رہنماؤں اور عالمی ماہرین کو ایک مشترکہ ایجنڈے کے تحت یکجا کیا جائے گا تاکہ تیزی سے بدلتی دنیا میں پائیدار ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

”Accelerating impact in a changed world” کے عنوان کے تحت PLC 2026 کا انعقاد لاہور (19 جنوری)، کراچی (21 جنوری) اور اسلام آباد (22 جنوری) میں کیا جائے گا۔ اس نمایاں پلیٹ فارم میں اعلیٰ سطحی کلیدی خطابات، پالیسی مکالمے اور پینل مباحثے شامل ہوں گے، جن میں پائیداری، ٹیکنالوجی، گورننس اور مستقبل کی مہارتوں پر توجہ دی جائے گی۔

یہ فلیگ شپ ایونٹ پاکستان کے لیے ایک نہایت اہم وقت پر منعقد ہو رہا ہے، جب ادارے معاشی غیر یقینی صورتحال، موسمیاتی خطرات اور تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ PLC 2026 کا مقصد محض گفتگو تک محدود رہنے کے بجائے ایسے عملی اقدامات پر توجہ مرکوز کرنا ہے جو کاروبار، حکومت اور معاشرے کے لیے حقیقی قدر پیدا کریں۔

تینوں شہروں میں افتتاحی سیشنز کا مرکز بدلتی دنیا میں بامعنی اثرات پیدا کرنا ہوگا، جس میں موسمیاتی گورننس، ذمہ دار سرمایہ کاری،اے آئی، ڈیٹا، کلاؤڈ اور ڈیجیٹل ترقی کے ساتھ ساتھ فنانس اور اکاؤنٹنسی کے بدلتے ہوئے کردار پر غور کیا جائے گا۔

PLC 2026میں سینئر سرکاری رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے، جو قومی اہداف کے حصول کے لیے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ سیشنز میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن، ڈاولینس، ABHI مائیکروفنانس بینک، DATArecall، دی کوکا کولا کمپنی، S&P گلوبل، پی ٹی سی ایل، جاز، پیکیجز گروپ، ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک اور نٹ شیل سمیت دیگر اداروں کے سینئر رہنما بھی شریک ہوں گے۔

ان مکالمات میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ ادارے کس طرح قابلِ اعتماد پائیداری کے طریقہ کار اپنا سکتے ہیں، موسمیاتی اور ESG ڈیٹا کو بہتر بنا سکتے ہیں، اے آئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں، اور عالمی معیارات سے ہم آہنگ مستقبل کی افرادی قوت تیار کر سکتے ہیں۔

PLC 2026پاکستان کی معاشی ترقی میں اے سی سی اے کے عزم کی تجدید کرتا ہے اور اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف سے قریبی ہم آہنگی رکھتا ہے، جس میں معیاری تعلیم، باعزت روزگار اور معاشی ترقی، موسمیاتی اقدامات، عدم مساوات میں کمی اور مضبوط اداروں کے اہداف شامل ہیں۔

ایک عالمی پیشہ ورانہ اکاؤنٹنسی ادارے کے طور پراے سی سی اے میں 180 ممالک میں 257,000 سے زائد اراکین اور 530,000 مستقبل کے اراکین شامل ہیں، اے سی سی اے قومی ترجیحات میں بین الاقوامی نقطہ نظر فراہم کرتا ہے اور پاکستان کی کاروباری برادری کو بہترین عالمی طریقہ کار اور پالیسی سوچ سے جوڑتا ہے۔

تقریب سے قبل اظہارِ خیال کرتے ہوئے، اے سی سی اے پاکستان کے سربراہ اسد حمید خان نے کہا”پاکستان لیڈرشپ کنورسیشن گزشتہ برسوں میں اکاؤنٹنسی کے شعبے میں بہتری کے حوالے سے ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ 2026 میں ہماری توجہ، عزائم کو عملی اقدامات میں ڈھالنے اور رہنماؤں کو وہ بصیرت اور صلاحیت فراہم کرنے پر مرکوز ہے جو اکاؤنٹنسی کے شعبے میں پائیدار ترقی کی فراہمی کے لیے ضروری ہے۔ “

PLC 2026میں سینئر فیصلہ سازوں کی شرکت متوقع ہے، جو پاکستان کے کاروباری اور پالیسی منظرنامے کو تشکیل دینے کیلئے اے سی سی اے کے کردار کو مزید مضبوط کرے گی۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پائیدار ترقی کیا جائے گا اکاو نٹنسی اے سی سی اے سکتے ہیں کے لیے

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف