عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان کو الودع کہہ دیا، وجہ بتاتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
پاکستان کی معروف نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ نے پی ٹی وی کے بعد ریڈیو پاکستان کو بھی الوداع کہہ دیا۔
سینئر براڈکاسٹر عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان میں 45 برس تک خدمات انجام دی ہیں۔
مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جذباتی پیغام شیئر کرتے ہوئے عشرت فاطمہ نے اللہ تعالیٰ، اپنے والدین اور سامعین کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ ریڈیو پاکستان سے علیحدگی کا فیصلہ ان کے لیے نہایت مشکل اور ذاتی نوعیت کا تھا۔
الوداعی پیغام میں عشرت فاطمہ کا کہنا تھا کہ الوداع کہنے سے قبل دل کی گہرائیوں سے میں اپنے سامعین اور ریڈیو پاکستان کی شکر گزار ہوں۔
انہوں نے مستقبل میں رابطے میں رہنے کے لیے مداحوں سے کہا کہ آگے کے سفر کے لیے میرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز (ایکس، یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈز) پر رابطہ رہے گا۔
عشرت فاطمہ کی ریڈیو پاکستان سے رخصتی پر صحافت اور نشریات سے وابستہ متعدد معروف شخصیات نے سوشل میڈیا کے ذریعے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا اور اردو زبان و نشریاتی صحافت کے لیے ان کی دہائیوں پر محیط خدمات کو سراہا۔
بعدازاں عشرت فاطمہ نے ایک اور ویڈیو شیئر کرکے ریڈیو پاکستان چھوڑنے کی دل خراش وجہ بتاتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں اور کہا کہ میں نے یہ کام اس لیے نہیں کیا کیونکہ مجھے نام چاہیے تھا بلکہ مجھے اس کام سے عشق تھا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز میں نے ریڈیو پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ نہایت دکھی دل کے ساتھ کیا، میں 1983 سے ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوں اور 1984 میں خبریں پڑھنی شروع کی۔ یہ میرا جنون اور پاگلپن تھا۔
انہوں نے کہا کہ شکر اللّٰہ کہ اب تک میری آنکھوں، سانس، آواز، چہرے نے میرا ساتھ نہیں چھوڑا، میں نے اپنے کام سے انصاف کرنے کی کوشش کی، پیسہ میرے لیے ترجیح نہیں تھا لیکن آپ جب تک اپنے کام سے انصاف کرسکتے ہیں تو خواہش ہوتی ہے کہ آپ کو کام کرنے کے لیے اسپیس دیا جائے مگر جب آپ کا مقابلہ کام سے نہیں کیا جاسکتا تو منفی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، جو تکلیف کا باعث بنتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ریڈیو پاکستان عشرت فاطمہ نے کام سے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔