WE News:
2026-07-23@23:44:07 GMT

چیٹ جی پی ٹی ٹرانسلیٹ متعارف، گوگل سے کتنا مختلف؟

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

چیٹ جی پی ٹی ٹرانسلیٹ متعارف، گوگل سے کتنا مختلف؟

ٹیک کمپنی اوپن اے آئی  نے جمعرات کو چیٹ جی پی ٹی ٹرانسلیٹ متعارف کرادیا جو ایک علیحدہ ویب بیسڈ ٹول ہے اور براہ راست گوگل ٹرانسلیٹ کے مقابلے پر بنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: طبی مشوروں کے لیے ’چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ‘ متعارف کرانے کا اعلان

یہ نیا سروس 50 سے زائد زبانوں میں ترجمے کی سہولت فراہم کرتا ہے اور صارفین کو ترجمے کے انداز اور لہجے کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کرنے کے اختیارات دیتا ہے جیسے کہ زیادہ روان، تعلیمی یا کاروباری و رسمی انداز۔

چیٹ جی پی ٹی ٹرانسلیٹ کا یوزر انٹرفیس گوگل ٹرانسلیٹ سے مشابہت رکھتا ہے، جس میں 2 ٹیکسٹ باکس ہیں جن میں سے ایک اصل متن کے لیے اور دوسرا ترجمہ شدہ متن کے لیے ہے جبکہ زبانوں کے انتخاب کے لیے ڈراپ ڈاؤن مینو بھی موجود ہیں۔ تاہم چیٹ جی پی ٹی ٹرانسلیٹ کا اصل مقصد سیاق و سباق اور انداز پر توجہ دینا ہے نہ کہ میڈیا یا تصویری مواد پر۔

ابتدائی طور پر یہ ٹیکسٹ بیسڈ ترجمہ صرف ڈیسک ٹاپ ورژن میں دستیاب ہے جبکہ موبائل براؤزر صارفین کو یہ سہولت دیتا ہے کہ وہ ٹیکسٹ ٹائپ کریں یا وائس کو ٹیکسٹ میں تبدیل کرکے ترجمہ کریں۔

گوگل ٹرانسلیٹ کے برعکس، فی الحال  چیٹ جی پی ٹی ٹرانسلیٹ تصاویر یا ویب سائٹس کی بنیاد پر ترجمے کی سہولت فراہم نہیں کرتا، حالانکہ مستقبل میں اس کی حمایت کا وعدہ اس کے ہوم پیج پر کیا گیا ہے۔

اوپن اے آئی نے ابھی تک موبائل ایپ بھی جاری نہیں کی اور یہ معلوم نہیں کہ ترجمے کے لیے کون سا مصنوعی ذہانت کا الگوردم استعمال کیا جا رہا ہے۔

مذید پڑھیے: چیٹ جی پی ٹی کے آڈیو فیچرز جدید بنانے کا اعلان، ہارڈویئر لانچ سے پہلے تیاریوں کا آغاز

یاد رہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے مرکزی چیٹ بوٹ میں یہ ترجمے کی سہولت پہلے سے موجود تھی لیکن یہ پہلا موقع ہے جب اوپن اے آئی نے اسے ایک علیحدہ سروس کے طور پر پیش کیا ہے۔

یہ فیچر خاص طور پر ان صارفین کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے جو اعلی معیار کے ترجمے چاہتے ہیں اور جس میں ترجمے کے انداز اور مقصد کا انتخاب بھی شامل ہو۔

گوگل ٹرانسلیٹ کے مقابلے میں منفرد خصوصیات

چیٹ جی پی ٹی ٹرانسلیٹ صارفین کو ترجمے میں زیادہ کنٹرول فراہم کرتا ہے۔ یہاں نہ صرف ترجمہ کیا جا سکتا ہے بلکہ صارف متن کے معنی اور انداز کے مطابق ترمیم بھی کر سکتے ہیں، جو گوگل ٹرانسلیٹ میں فی الحال دستیاب نہیں۔

تاہم تصویری یا ویب سائٹ ترجمہ جیسی خصوصیات ابھی صرف گوگل ٹرانسلیٹ میں دستیاب ہیں۔ چیٹ جی پی ٹی ٹرانسلیٹ فی الحال صرف ٹیکسٹ اور موبائل براؤزر پر وائس ان پٹ کے لیے کام کرتا ہے۔

لہجہ اور انداز کا کنٹرول

چیٹ جی پی ٹی ٹرانسلیٹ صارفین کو ترجمے کے لہجے اور انداز کو منتخب کرنے کی سہولت دیتا ہے جیسے زیادہ رواں، تعلیمی یا کاروباری رسمی ترجمہ جبکہ گوگل ٹرانسلیٹ میں فی الحال یہ کنٹرول محدود ہے۔

سیاق و سباق پر فوکس

چیٹ جی پی ٹی ٹرانسلیٹ ترجمہ کرتے وقت متن کے سیاق و سباق اور معنوی درستگی پر زیادہ توجہ دیتا ہے جبکہ گوگل ٹرانسلیٹ زیادہ تر براہِ راست لفظی ترجمہ کرتا ہے۔

ٹیکسٹ اور وائس ان پٹ

چیٹ جی پی ٹی ٹرانسلیٹ فی الحال صرف ٹیکسٹ اور موبائل براؤزر پر وائس ان پٹ کے لیے دستیاب ہے جبکہ گوگل ٹرانسلیٹ تصویری ترجمہ، ویب سائٹ ترجمہ اور موبائل ایپ کے ذریعے زیادہ فیچرز فراہم کرتا ہے۔

مستقبل کے امکانات

چیٹ جی پی ٹی ٹرانسلیٹ ایک نیا ٹول ہے اور مستقبل میں مزید فیچرز کا وعدہ کیا گیا ہے جبکہ گوگل ٹرانسلیٹ پہلے ہی ایک مکمل، ملٹی فیچر پلیٹ فارم کے طور پر مستعمل ہے۔

مزید پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی کا نیا فیچر صارفین کو کون سی سہولت فراہم کرے گا؟

یہ سروس خاص طور پر ان افراد کے لیے مفید ہے جو ترجمے میں لہجہ، مقصد اور سیاق و سباق کی زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

چیٹ جی پی ٹی ٹرانسلیٹ چیٹ جی پی ٹی ٹرانسلیٹ متعارف گوگل ٹرانسلیٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: گوگل ٹرانسلیٹ سیاق و سباق صارفین کو اور انداز ترجمے کے کی سہولت فی الحال دیتا ہے ہے جبکہ کرتا ہے متن کے کے لیے

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ