ایئر انڈیا کا جہاز کارگو کنٹینر سے ٹکرا گیا، انجن کو شدید نقصان
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
ایئر انڈیا A350 طیارے کے دوسرے انجن سے کارگو کنٹینر ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز کو شدید نقصان پہنچا۔ جہاز نیویارک کے لیے روانہ ہوا تھا لیکن ایران کے فضائی حدود کی بندش کے باعث واپس نئی دہلی لوٹنا پڑا۔
مزید پڑھیں:کینیڈا کے ہوائی اڈے پر ہنگامہ: ایئر انڈیا کا پائلٹ شراب کے نشے میں، پرواز آخری لمحے روکنی پڑی
واقعہ آج صبح مقامی وقت کے مطابق 5:25 بجے پیش آیا، جب جہاز اندرا گاندھی ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کے بعد ٹیکسی وے سے اپرون کی طرف جا رہا تھا۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) کے مطابق، اس وقت دیکھنے کی حد کم تھی۔
ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا کہ ٹگ کارگو کنٹینرز کو ٹرمینل 3 کے بیگیج میک اپ ایریا لے جا رہا تھا۔ گاڑی لین سے کراس کرتے وقت ایک کنٹینر ٹیکسی وے کے درمیان گر گیا اور جہاز کے دوسرے انجن سے ٹکرا گیا۔ دھات کے ٹکڑے ہٹانے کے بعد جہاز کو پارک کردیا گیا ہے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ایران نے امریکا کے ساتھ کشیدگی اور داخلی اضطراب کے بعد فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کر دیا تھا اور صرف خصوصی اجازت یافتہ پروازوں کو اجازت دی گئی تھی۔ یہ بندش قریباً 5 گھنٹے جاری رہی۔
مزید پڑھیں:’فلک بھارت سے ہنوز خفا‘: ایئر انڈیا طیارے کو پھر سبکی کا سامنا
بھارت کی سب سے بڑی ایئر لائن انڈیگو نے کہا کہ اس اچانک فضائی حدود کی بندش کے سبب کچھ بین الاقوامی پروازیں متاثر ہوں گی۔ ایئر انڈیا نے بتایا کہ جہاز متبادل راستوں پر چل رہے ہیں، جس کی وجہ سے تاخیر یا منسوخی کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایئر انڈیا ٹکرا گیا، کارگو کنٹینر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایئر انڈیا ٹکرا گیا کارگو کنٹینر کارگو کنٹینر ایئر انڈیا ٹکرا گیا
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔