پی ٹی وی کے تمام ملازمین کو تنخواہیں ادا کر دی گئیں: عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) قائمہ کمیٹی اطلاعات کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے پی ٹی وی کے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا معاملہ اٹھا دیا، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کمیٹی کو بتایا کہ تمام ملازمین کو تنخواہیں ادا کردی گئی ہیں، پی ٹی وی میں میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر ندیم عباس کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے شرکت کی۔اجلاس میں پاکستان ٹیلی وژن کی مالی و انتظامی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ پی ٹی وی کے ملازمین کو تنخواہوں اور پنشن کی تمام ادائیگیاں مکمل ہو چکی ہیں اور ادارے پر کوئی واجب الادا رقم نہیں۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں سے پی ٹی وی فیس کے خاتمے کے بعد پھیلائی جانے والی افواہیں درست نہیں، وزارت کے پاس فنڈز موجود ہیں اور پی ٹی وی کی تنخواہیں متاثر نہیں ہوں گی۔
اینکرز کی بھرتیوں سے متعلق عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ تمام تقرریاں مکمل طور پر میرٹ پر کی گئی ہیں، کسی سفارش کو شامل نہیں کیا گیا اور زیرو ٹالرینس پالیسی پر عمل جاری ہے۔رکن کمیٹی سحر کامران نے انکشاف کیا کہ پی ٹی وی میں ایک خاتون میک اپ آرٹسٹ خود ڈیوٹی پر نہیں آتی تھی اس کی جگہ اس کا شوہر آتا تھا۔اس پر عطا تارڑ نے جواب دیا کہ میں تو میک اپ نہیں کرواتا، فردوس عاشق اعوان کرواتی تھیں۔
اجلاس میں پی ٹی وی اسپورٹس چینل کی کارکردگی پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا، جبکہ انسانی وسائل کے شعبے میں اصلاحات اور پہلی بار ڈائریکٹر ایچ آر کی تعیناتی سے بھی کمیٹی کو آگاہ کیا گیا، کمیٹی نے پی ٹی وی میں ادارہ جاتی اصلاحات کا عمل جاری رکھنے پر زور دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔