Islam Times:
2026-06-03@01:25:54 GMT

تاریخچہ تشیع پاک و ہند

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

تاریخچہ تشیع پاک و ہند

اسلام ٹائمز: 1820ء میں سید احمد رائے بریلی نے لکھنؤ میں اہل سنت کو عزاداری پر حملے کے لیے اکسایا اور کہا کہ تعزیہ توڑنے کا ثواب بت شکنی جیسا ہے۔ سید احمد بریلوی نے سہارن پور میں تعزیے کو آگ لگوا دی۔ اس توہین کی وجہ سے اہل تشیع میں اشتعال پھیل گیا اور انھوں نے اس فتنے کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔ اس تیاری کی خبر ملنے پر انگریزوں نے سید احمد اور ان کے مریدوں کو سہارن پور سے علاقہ بدر کر دیا۔ سید احمد جب بریلی گئے تو وہاں بھی عزاداری کے خلاف جلسے اور تقریریں کیں۔ تالیف: سید اسد عباس

پاک و ہند میں تشیع کی مختصر تاریخ
برصغیر میں شیعہ علیؑ کا پہلا حوالہ حارث بن مرہ عبدی کا 656ء (36 ہجری) یا 658ء (38 ہجری) ہے جو امام علیؑ کی اجازت سے ایک لشکر کے ہمراہ مکران، قندابیل اور قیقان کے علاقوں تک آئے۔ زید بن علیؑ کی والدہ کا تعلق وادئ سندھ (موجودہ پاکستان) سے تھا اور وہ امام زین العابدینؑ کی دوسری زوجہ تھیں۔ ابن خلدون کے بقول خلیفہ منصور کے زمانے میں سندھ کا عامل عمر بن حفص تشیع کی جانب میلان رکھتا تھا۔ محمد نفس ذکیہ کے فرزند عبد اللہ اشتر، جن کو عبد اللہ شاہ غازیؒ کے نام سے جانا جاتا ہے، 400 افراد پر مشتمل زیدیوں کی ایک جماعت کے ساتھ اس کے پاس آئے۔ عباسی خلیفہ منصور نے ہشام بن عمر ثعلبی کی سربراہی میں لشکر بھیج کر آپکو شہید کرا دیا۔ نویں اور دسویں صدی عیسوی میں ہندوستان میں مبلغین اور صوفیوں کی آمد کا سلسلہ بڑھنا شروع ہوا تب تک سنیوں کے چار فقہی مکاتب (حنفی، حنبلی، مالکی، شافعی) تشکیل پا چکے تھے اور اہلِ تشیع تین شاخوں (زیدی، اثنا عشری، اسماعیلی) میں بٹ چکے تھے۔

دسویں صدی عیسوی میں ایران اور عراق میں اثناء عشری شیعہ خاندان آل بویہ (934ء –1062ء ) اور مصر، شام اور حجاز میں اسماعیلی شیعہ فاطمیوں (909ء –1171ء)کی حکومت قائم ہوئی۔ اسی صدی میں ملتان میں قرامطہ حکومت قائم ہوئی جو مصر کی فاطمی حکومت سے منسلک تھے۔ یہ حکومت محمود غزنوی نے ختم کی۔ 1374ء میں شمالی ہندوستان میں پہلی شیعہ حکومت "جون پور سلطنت" (1374ء –1479ء) قائم ہوئی۔ اس نے علم و فن کی سرپرستی کی جس کے نتیجے میں جون پور کو شیراز ہند کہا جانے لگا۔

چودہویں صدی عیسوی میں میر سید علی ہمدانی نے کشمیر میں قدم رکھا اور اسلام کی تبلیغ شروع کی۔ انہوں نے وسیع پیمانے پر جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں سفر کیا اور بیس کے قریب شاگرد مختلف علاقوں میں ٹھہرائے۔ وہ ایک صوفی تھے، انھوں نے مقامی آبادی میں اہلبیتؑ کی محبت کو عام کیا۔ کشمیر میں شیعہ اثنا عشری مسلک کی تبلیغ میر سید شمس الدین عراقی نے کی۔ ان کے دادا میر سید محمد نور بخش (نور بخشیہ سلسلے کے روحانی پیشوا)، میر سید علی ہمدانی کے سلسلے سے تعلق رکھتے تھے اور کشمیر، افغانستان اور ایران میں ان کے مریدوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔

سولہویں صدی عیسوی میں پنجاب میں شیعہ اسلام تیزی سے پھیلا۔ اس سلسلے میں نمایاں ترین کردار ملتان کے سید جمال الدین یوسف شاہ گردیزی اور اچ شریف کے سید جلال الدین المعروف جلال الدین سرخ پوش کے اعقاب سید محب عالم شاہ جیونہ، راجن پورکے سید محمد راجو شاہ بخاری نے ادا کیا۔ مغل حکمران ہمایوں شیر شاہ سوری سے شکست کھانے کے بعد ایران میں پناہ گزین رہا اور صفوی حکمران کے تعاون سے ایک لشکر لے کر دوبارہ وارد ہند ہوا۔ اس لشکر میں بڑی تعداد شیعہ شخصیات پر مشتمل تھی جو دلی ریاست میں اہم عہدوں پر تعینات ہوئے، انھوں نے بھی تشیع کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا۔ اکبر کے دور میں ایک شیعہ عالم قاضی نور اللہ شوستری نے ہر فقہ کے ماننے والوں کے لیے اس کی فقہ کے مطابق فیصلہ کرنے کی صلاحیت کے سبب بادشاہ کا اعتماد حاصل کر لیا۔ اکبر نے نور اللہ شوستری صاحب کو قاضی القضاۃ کا درجہ دیا۔ اس زمانے میں سنی علما میں شیخ عبد الحق محدث دہلوی نمایاں علمی شخصیت تھے جن کو اکبر کے دربار میں عزت و احترام حاصل تھا۔ بحر الاسرار کا مصنف محمد بلخی یکم محرم 1035 ہجری/3 اکتوبر 1625ء کو لاہور کے حالات لکھتے ہوئے نقل کرتا ہے کہ "سارا شہر محرم منارہا تھا اور دسویں محرم کو تعزیے نکالے گئے، تمام دکانیں بند تھیں۔ اتنا رش تھا کہ بھگڈر مچنے سے تقریباً 50 شیعہ اور 25 ہندؤ اپنی جان گنوا بیٹھے"۔

شیعہ ستیزی کے چند تاریخی حوالے
وادئ سندھ میں شیعہ ستیزی کا پہلا نمایاں واقعہ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور دوانیقی کے لشکر کے ہاتھوں امام حسنؑ کے پڑ پوتے محمد نفس ذکیہ کے فرزند حضرت عبداللہ شاہ غازی ؑاور ان کے چار سو ساتھیوں کا قتل تھا۔ محمود غزنوی دور میں قرامطہ سلطنت کا خاتمہ ہوا اس حکومت کے اکثر لوگ سندھ اور جنوبی میں پناہ گزین ہوئے۔ سلاطین دہلی (1206ء – 1526ء) اگرچہ فقہ حنفی کی ترویج کے لیے ریاستی طاقت استعمال کیا کرتے تھے، لیکن اس دور کی عرب دنیا کے برعکس برصغیر کے شیعہ شہریوں کے خلاف امتیازی سلوک کی مثالیں بہت کم ہیں جس کی وجہ تقیہ ہو سکتی ہے۔ سولہویں صدی عیسوی میں مغلیہ سلطنت کے قیام کے بعد فرقہ وارانہ تشدد میں کافی کمی آئی کیونکہ مغل شہنشاہ سیکولر طرز حکومت کے داعی تھے۔ تاہم اس دور میں بھی کوہ ہمالیہ کے دامن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کا علاقہ فرقہ وارانہ فسادات کا شکار ہوتا رہا ہے۔ کشمیر کے معروف سنی مؤرخ پیر غلام حسن کویہامی کی کتاب "تاریخ حسن" کی پہلی جلد میں "تاراج شیعہ" کے عنوان سے ایک پورا باب موجود ہے جس میں 1548ء، 1586ء، 1635ء، 1686ء، 1719ء، 1741ء، 1762ء، 1801ء، 1830ء اور 1872ء کے سالوں میں شیعہ ستیزی کی مہمات کا تفصیل سے ذکر موجود ہے۔ جن میں نہ صرف شیعوں کو قتل کیا گیا بلکہ ان کے اعضاء کاٹنے، عصمتیں دری اور مردوں کو قبر سے نکال کر جلانے کے واقعات قلمبند ہیں۔

مغل بادشاہ اورنگزیب کے زمانے میں تینتیس جلدوں پر مشتمل فقہی احکام کا مجموعہ بعنوان "فتاویٰ عالمگیری" مرتب کیا گیا جس میں شیعہ عقیدے کو گمراہانہ بتایا گیا۔ اس دور میں سرکاری طور پر شیعوں سے امتیازی سلوک کیا جاتا اور شیعہ مسلک کی توہین کی جاتی تھی۔ اورنگزیب نے بوہری اسماعیلیوں کے داعیء مطلق سیدنا قطب الدین اور سکھوں کے گرو تیغ بہادر جی کو عقیدے کے اختلاف کی وجہ سے قتل کیا۔ اورنگزیب نے ستائیس سال مسلسل حملے کر کے دکن سے شیعہ اقتدارکا خاتمہ کیا، اس طویل جنگ پر مغل سلطنت کا کثیر سرمایہ ضائع ہوا۔ اٹھارویں صدی عیسوی جہاں مغل سلطنت کے مغرب میں افغان حملہ آوروں اور مشرق و جنوب میں انگریزوں کے سامنے عسکری کمزوری دکھانے سے عبارت ہے، وہیں دہلی میں شیعہ اور سنی امرا کے بیچ سرد جنگ اس سلطنت کے زوال کا دوسرا اہم عامل ہے۔ شاہ ولی اللہ کے بیٹوں میں سے شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (1746ء۔ 1823ء) فرقہ وارانہ نفرت میں آگے تھے۔ 1790ء میں شاہ عبد العزیز نے شیعہ مسلمانوں کے خلاف "تحفۃ اثنا عشریۃ" نامی کتاب لکھی۔ اس کے جواب میں شیعہ علما میں سے علامہ سید محمد قلی موسوی نے "الأجناد الإثنا عشريۃ المحمديۃ"، آیت اللہ میر سید حامد حسین موسوی نے "عبقات الانوار فی امامۃ الائمۃ الاطہار" اور علامہ سید محمّد کمال دہلوی نے" نزھۃ اثنا عشریۃ" کے عنوان سے کتابیں لکھیں۔

1820ء میں سید احمد رائے بریلی نے لکھنؤ میں اہل سنت کو عزاداری پر حملے کے لیے اکسایا اور کہا کہ تعزیہ توڑنے کا ثواب بت شکنی جیسا ہے۔ سید احمد بریلوی نے سہارن پور میں تعزیے کو آگ لگوا دی۔ اس توہین کی وجہ سے اہل تشیع میں اشتعال پھیل گیا اور انھوں نے اس فتنے کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔ اس تیاری کی خبر ملنے پر انگریزوں نے سید احمد اور ان کے مریدوں کو سہارن پور سے علاقہ بدر کر دیا۔ سید احمد جب بریلی گئے تو وہاں بھی عزاداری کے خلاف جلسے اور تقریریں کیں جن کے ردعمل میں اہل تشیع نے تبرا کا جلوس نکالنے کا اعلان کر دیا۔ متعدد حنفی علما نے بھی سید احمد رائے بریلی اور شاہ اسماعیل دہلوی کے انحراف کے خلاف کتب تحریر کیں جن میں علامہ فضل حق خیر آبادی، مولانا عبد المجید بدایونی، مولانا فضل رسول بدایونی، مفتی صدر الدین آزردہ، مولانا محمد موسیٰ اور مولانا ابوالخیر سعید مجددی نمایاں تھے۔ ان بزرگوں کے پیروکار بعد میں امام احمد رضا خان کی نسبت سے بریلوی کہلائے۔

دیوبند سے علامہ رشید گنگوہی اور بریلی سے علامہ احمد رضا خان بریلوی نے شیعہ مخالف تقاریر، تحریروں اور عملی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع کیا جس کا مختلف شیعہ علماء کی جانب سے جواب دیا گیا۔ 1891ء سے 1893ء تک افغانستان میں ہونے والی ہزارہ قبائل کی نسل کشی اور ان کی جائیداد کی پشتونوں میں تقسیم اور  ان کو غلام اور لونڈیاں بناکر فروخت کرنے کے سبب کچھ خاندان کوئٹہ میں آکر آباد ہوئے جو اس وقت انگریزوں کے زیر قبضہ ہونے کی وجہ سے ہزارہ کے لیے محفوظ پناہ گاہ ثابت ہوا۔ بیسویں صدی کے اوائل میں مولانا عبد الشکور لکھنوی نے شیعہ دشمنی پر کمر باندھی، انھوں نے عاشورہ کو خوشی کا دن قرار دیا، اہل سنت نے لکھنو میں عاشورہ والے دن میلے کا سا سماں باندھ لیا، چار یاری پرچم اور مدح صحابہ جلوس نکالے گئے۔

تحریک خلافت کی 1929ء میں ناکامی کے بعد مولانا عطا اللہ شاہ بخاری، مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی، مولانا مظہر علی اظہر اور مولانا ظفر الملک وغیرہ نے "مجلس احرار" نامی تنظیم بنائی۔ مجلس احرار نے محرم میں مدح صحابہ جلوس پر پابندی کے خلاف تقاریر اور ہنگامے شروع کیے۔ 1936ء میں مجلس احرار نے محرم کے موقع پر مدح صحابہ کا جلوس بحال کروانے کے لیے سول نافرمانی کی تحریک چلائی۔ اس مرتبہ اہلسنت سے ایک نیا گروہ الگ ہو کر سامنے آیا جنھوں نے مجلس احرار کے جلوسوں میں کھلم کھلا اہلبیتؑ کے قاتلوں کی مدح اور حضرت علیؑ پر لعنت بھیجنا شروع کر دی۔ ان میں سے کچھ لوگ خود کو فخر سے" خارجی" کہتے تھے۔ 1938ء میں عاشورا کے موقع پر شیعہ سنی فسادات ہوئے اور متعدد افراد قتل ہوئے۔ شہر کے شیعہ اور سنی شہریوں نے آپس میں بول چال، خریداری، آنا جانا بند کر دیا۔ قائداعظم ؒ، جو مسلمانوں کے حقوق کے لیے متحرک ہو چکے تھے، اس فساد کو کانگریس کی سازش سمجھتے تھے کیوں کہ اس کو ہوا دینے والے جمعیت علمائے ہند کے مولانا حسین احمد مدنی کانگریس کے اتحادی تھے۔

مولانا حسین احمد مدنی ہندو مسلم اتحاد کی تو وکالت کرتے تھے مگر مسلمانوں کا داخلی اتحاد توڑنے میں لگے رہتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد ہجرت کر کے آنے والے اکثر شیعہ دشمن علما، مولانا سرفراز خان صفدر، مفتی محمود، مولانا منظور احمد چنیوٹی اور مولانا عبد الستار تونسوی وغیرہ انہی کے شاگرد تھے۔ 1940ء میں دہلی میں جب مولانا محسن علی عمرانی (ڈیرہ اسماعیل خان) مجلسِ عزا سے خطاب کر رہے تھے تب عزاداری کے جلوس پر بم سے حملہ کیا گیا۔ اس دھماکے کو شیعہ جلوس پر پہلا دھماکہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ مجلس احرار کے علماء مسلک کی وجہ سے قائد اعظم کے مخالف تھے۔ مولانا اظہر علی اظہر نے اس وقت لکھا:
اک کافرہ کے واسطے اسلام کو چھوڑا
یہ قائد اعظم ہے یا کافر اعظم


انقلاب ایران کے بعد کے واقعات
جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء نافذ کیا تو اگلے محرم یعنی فروری 1978ء میں لاہور میں 8 جبکہ کراچی میں 14 شیعہ قتل ہوئے۔ جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت میں سرکاری اسکولوں میں شیعہ بچوں کے لیے منظور کی جانے والی شیعہ دینیات کے مضمون پر پابندی لگا دی۔ 1984ء میں مولانا نورالحسن بخاری کی وفات کے بعد کچھ عرصہ "تنظیم اہلسنت" کی باقیات کو "سواد اعظم" پکارا گیا اور اس کی سرپرستی مولانا سمیع الحق نے کی۔ 1985ء میں یہ جماعت پاکستانی پنجاب کے شہر جھنگ میں "انجمن سپاہ صحابہ" کے نئے نام سے سامنے آئی۔ کچھ برسوں بعد جب اس نام کے انگریزی مخفف (ASS) کا مذاق اڑایا جانے لگا تو اس کا نام بدل کر "سپاہ صحابہ پاکستان" رکھ دیا گیا۔

جنرل ضیاءالحق کے زمانے میں کوئٹہ، کراچی، پاراچنار اور گلگت میں شیعوں پر بڑے حملے ہوئے۔ 1981ء میں کرم ایجنسی کے سارے دیوبندی قبائل نے افغان مہاجرین کیساتھ مل کر پاراچنار کے راستے پر موجود قصبہ "صدہ "میں شیعہ آبادی پر ہلہ بول دیا اور فلسطین پر اسرائیلی قبضے کی طرز پر شیعوں کو مکمل طور پر بے دخل کر دیا۔ 1983ء میں کراچی میں شیعہ آبادیوں پر حملے ہوئے جن میں 60 افراد شہید کر دیے گئے۔ 5 جولائی 1985ء کو کوئٹہ میں تکفیری دہشت گردوں نے اپنے دو پولیس والے سہولت کاروں کے ہمراہ پولیس کی وردیاں پہن کر شیعوں کے احتجاجی جلوس پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 25 شیعہ قتل ہوئے۔ البتہ چونکہ یہ دو بدو مقابلے کی کوشش تھی، لہذا 11 دہشت گرد جوابی کارروائی میں ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے ریکارڈ کے مطابق ہلاک شدگان میں سے دو کی شناخت پولیس اہلکاروں کے طور پر ہوئی، باقی 9 جعلی وردیاں پہن کر آئے تھے۔

24 جولائی 1987ء کو پاراچنار میں شیعہ آبادیوں پر افغان مجاہدین کا حملہ شیعوں کی بھرپور تیاری کی وجہ سے ناکام ہوگیا۔ 80ء کی دہائی میں پاکستان بھر میں 700 کے لگ بھگ شیعہ قتل ہوئے، جن میں سے 400 کے قریب لوگ 1988ء میں گلگت کی غیر مسلح شیعہ آبادیوں پر حملے کے نتیجے میں قتل ہوئے۔ اسی طرح نوے کی دہائی میں ٹارگٹ کلنگ پاکستان کا اہم مسئلہ قرار پایا جس میں بہت سے شیعہ پروفیشنلز  اندھی گولیوں کا نشانہ بنے۔ اکیسویں صدی کے اوائل میں طالبانائزیشن کے سبب ملک میں خودکش دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ شیعہ مجالس اور جلوسوں کو بھی خودکش حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق 2000ء سے 2017ء تک تقریباً تین ہزار شیعہ قتل ہوئے جبکہ ہزاروں زخمی یا مفلوج ہوئے۔ کراچی، ڈیرہ اسماعیل خان، کوئٹہ کے شیعہ ان حملوں میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور اکثر خاندان ہجرت پر مجبور ہوئے۔

جاری ہے

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صدی عیسوی میں شیعہ قتل ہوئے سہارن پور کی وجہ سے انھوں نے جلوس پر میں اہل پر حملے کے خلاف کے بعد کے لیے سے ایک کر دیا اور ان

پڑھیں:

بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا

بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔

میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔

یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔

        View this post on Instagram                      

تاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم