پاکستان نے امریکی امیگرنٹ ویزا اور ایران کی صورتحال پر موقف واضح کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام آباد: دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان امریکی امیگرنٹ ویزا کی پروسیسنگ کے حوالے سے امریکی حکام سے رابطے میں ہے اور امید ہے کہ معمول کی آن لائن پروسیسنگ جلد بحال ہو جائے گی۔
ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان ایران کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور پرامن حل کے لیے تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کا ہمسایہ اور عالمی برادری کا اہم رکن ہے، اس لیے پاکستان چاہتا ہے کہ ایران پُرامن اور مستحکم رہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ حالیہ احتجاجات عام شہریوں کو درپیش معاشی مشکلات کی وجہ سے ہوئے، تاہم حکومت ایران کے اعلان کردہ معاشی امدادی اقدامات سے عوام کی مشکلات کم ہوں گی۔ انہوں نے ایرانی عوام اور قیادت کی دانشمندی پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ ایرانی قوم چیلنجز پر قابو پا کر مزید مضبوط ہو کر اُبھرے گی۔
دفتر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ایران میں پاکستانی شہریوں کی معاونت کے لیے تہران میں پاکستانی سفارتخانہ متحرک ہے اور شہریوں کی سلامتی کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ترجمان نے بھارتی آرمی چیف کے حالیہ الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات سیاسی مقاصد کے لیے گھڑی گئی من گھڑت کہانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے حمایت یافتہ دہشتگرد نیٹ ورکس کی خطے میں موجودگی اور ماورائے عدالت قتل کی مثالیں عالمی سطح پر ریکارڈ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو اشتعال انگیز بیانات سے باز رہنے کی نصیحت کی ہے اور خطے میں بڑھتے ہوئے انتہاپسندانہ اور مذہبی بنیادوں پر تشدد کو خطرہ قرار دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل انہوں نے کہ ایران نے کہا ہے اور کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔