سکردو، جلوس شہادت حضرت امام موسیٰ کاظمؑ کے موقع پر رہبر معظم سے اظہار یکجہتی
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
ایم ڈبلیو ایم عزاداری ونگ کی جانب سے جلوس عزاء کے موقع پر عزاداروں میں رہبر معظم سید علی خامنہ ای، شہید حسن نصر اللہ، شہید یحییٰ سنوار کی تصاویر تقسیم کی گئیں۔ اس موقع پر عزاداروں نے رہبر معظم سے اپنی بھرپور یکجہتی اور حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ گمبہ سکردو میں جلوس شہادت حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے موقع پر رہبر معظم سید علی خامنہ ای سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ ایم ڈبلیو ایم عزاداری ونگ کی جانب سے جلوس عزاء کے موقع پر عزاداروں میں رہبر معظم سید علی خامنہ ای، شہید حسن نصر اللہ، شہید یحییٰ سنوار کی تصاویر تقسیم کی گئیں۔ اس موقع پر عزاداروں نے رہبر معظم سے اپنی بھرپور یکجہتی اور حمایت کے عزم کا اعادہ کیا اور انقلاب اسلامی ایران کی ہر سطح پر حمایت کا بھی اعادہ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے موقع پر
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔