ایران، فسادات میں ملوث خاتون سرغنہ کا ذاتی طور پر نیتن یاہو سے رابطے کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خاتون ملزمہ جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، سات زبانوں پر عبور رکھتی ہے، نے یہ اعتراف بدھ کے روز ایران کی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی کی تہران کے ایک حراستی مرکز کے دورے کے دوران کیا، جہاں فسادات اور تخریب کاری میں ملوث افراد کو رکھا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران میں حالیہ امریکہ اور اسرائیل کی پشت پناہی سے ہونے والے فسادات میں ملوث ایک خاتون سرغنہ نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے ذاتی طور پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور تل ابیب حکومت سے ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے والی کارروائیوں کی حمایت طلب کی۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خاتون ملزمہ جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، سات زبانوں پر عبور رکھتی ہے، نے یہ اعتراف بدھ کے روز ایران کی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی کی تہران کے ایک حراستی مرکز کے دورے کے دوران کیا، جہاں فسادات اور تخریب کاری میں ملوث افراد کو رکھا گیا ہے۔ حکام کے مطابق، خاتون نے اعتراف کیا کہ اس نے حالیہ ہنگاموں کے دوران پرو پہلوی سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے منتظمین کے ساتھ رابطہ کیا اور 7 اکتوبر 2023ء کو غزہ پر اسرائیل کے قتلِ عام کے بعد اسرائیل نواز حلقوں سے براہِ راست رابطہ کیا۔ اس نے اعتراف کیا کہ اس نے خود نیتن یاہو کو براہِ راست پیغام بھیجا۔
رپورٹ کے مطابق دو دیگر فسادیوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ایک پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا، جس کا مقصد اسلامی جمہوریہ کو کمزور کرنا اور ملک میں افراتفری پیدا کرنا تھا۔ حراست میں لیے گئے ایک شخص نے اعتراف کیا کہ اس نے جنوبی تہران میں اپنے اپارٹمنٹ سے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور شہریوں پر سنگل بیرل شارٹ گن سے فائرنگ کی۔ ایک اور شخص نے تسلیم کیا کہ اس نے چار پولیس اہلکاروں کو جان بوجھ کر اپنی کار سے ٹکر مار دی۔ تین دیگر تخریب کاروں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور شہریوں کے سر پر سیمنٹ کے بڑے بڑے بلاکس گرا کر حملہ کیا۔ ان کی سرغنہ خاتون نے کھلے عام کہا کہ انہیں دشمنوں کی ایران مخالف ایجنڈے کی مکمل آگاہی تھی اور ان کا منصوبہ قوم کو تقسیم کرنا تھا۔
ان اعترافات کے جواب میں محسنی نے وعدہ کیا کہ وہ تمام افراد جو براہِ راست یا بالواسطہ غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں سے جڑے ہیں اور جنہوں نے حالیہ ہنگاموں میں فسادیوں اور تخریب کاروں کو اکسایا، انصاف کے کٹہرے میں لائے جائیں گے۔ یاد رہے کہ حالیہ ہنگامے ابتدا میں تہران کے بڑے بازار میں کچھ تاجروں کے پرامن احتجاج سے شروع ہوئے، جو قومی کرنسی کی اتار چڑھاؤ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف تھے، یہ حالات امریکہ اور برطانیہ سمیت یورپی ممالک کی پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے۔ احتجاج ایک ہفتے تک پرامن رہے، اس دوران صدر مسعود پزشکیان اور ان کی انتظامیہ نے مظاہرین کے نمائندوں سے بات چیت کی اور ان کے مطالبات سنے۔ تاہم 8 جنوری سے صورتحال بدل گئی جب منظم اور جان بوجھ کر پرتشدد کارروائیاں شروع ہو گئیں، جو غیر ملکی پشت پناہی سے لیس فسادیوں اور تخریب کاروں نے معاشی شکایات پر مبنی پرامن احتجاج کو ہائی جیک کر کے کیں۔
مسلح فسادیوں اور تخریب کاروں نے دکانوں، بینکوں، بس اسٹیشنوں اور مساجد سمیت عوامی املاک پر حملے کیے اور کئی سیکیورٹی اہلکاروں کو قتل کیا۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے حکام نے ایسے شواہد حاصل کیے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر ملکی پشت پناہی سے دہشت گرد گروہوں نے ہتھیار استعمال اور تقسیم کیے اور شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔ ایران کی حکومت اسرائیل اور امریکہ کو براہِ راست ان دہشت گرد اور تخریبی کارروائیوں کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے، جن میں درجنوں سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی شہادتیں ہوئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے اعتراف کیا کہ رپورٹ کے مطابق کیا کہ اس نے تخریب کاروں اور شہریوں اور تخریب میں ملوث
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔