وفاقی حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد :وفاقی حکومت نے آئندہ مدت کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا ہے۔ اس حوالے سے پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے باضابطہ نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں کسی قسم کی کمی یا اضافہ نہیں کیا گیا۔
نوٹی فکیشن کے مطابق ملک بھر میں پیٹرول کی قیمت 253 روپے 17 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 257 روپے 8 پیسے فی لیٹر برقرار رہے گی۔ حکومت کے اس فیصلے کا اطلاق فوری طور پر ہوگا اور یہ قیمتیں آئندہ نظرثانی تک نافذ العمل رہیں گی۔
پیٹرولیم ڈویژن کے حکام کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ اور مقامی معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، حکومت اس وقت مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور عام شہری کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مختلف معاشی اقدامات کر رہی ہے، جن میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مستحکم رکھنا بھی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کو عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم اس کے باوجود عوامی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نقل و حمل، اشیائے خورونوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈالتی ہیں، اس لیے ان میں استحکام مہنگائی کو قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب شہریوں نے موجودہ مہنگائی کے دور میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا تھا، اگرچہ قیمتوں میں کمی نہیں کی گئی، لیکن موجودہ نرخ برقرار رکھنا بھی کسی حد تک ریلیف ہے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ حکومت کو مستقبل میں عالمی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھنا ہوگی، کیونکہ خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ملکی معیشت پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ توانائی کے متبادل ذرائع اور مقامی پیداوار میں اضافے پر توجہ دے کر طویل المدتی بنیادوں پر عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن نے واضح کیا ہے کہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر آئندہ قیمتوں میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے، تاہم فی الحال عوام کو ایندھن کی قیمتوں میں کسی تبدیلی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قیمتیں برقرار رکھنے کا کی قیمتوں میں ڈیزل کی سکتا ہے
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں