11 جنوری کو غفلت برتنے پر کراچی پولیس میں اکھاڑ پچھاڑ، 5 ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کیخلاف ایکشن
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ نے 11 جنوری کو سیکیورٹی انتظامات کے دوران غفلت اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر 5 ڈی ایس پیز اور 6 ایس ایچ اوز کیخلاف ایکشن لے لیا۔
ترجمان سندھ پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کراچی میں 11 جنوری کے سیکیورٹی انتظامات کے دوران فرائض میں غفلت ،غیر ذمہ داری ، بدانتظامی اور عوامی مشکلات کی شکایت پر سخت ایکشن لیتے ہوئے 5 ڈی ایس پیز کو عہدوں سے ہٹا کر کراچی پولیس آفس رپورٹ کرنیکے احکام جاری کیے ہیں۔
ترجمان کے مطابق منگھوپیر ، ناظم آباد ، گلبہار ، جمشید کوارٹر اور عزیزآباد کے ایس ڈی پی اوز کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق کراچی کے مختلف اضلاع کے 6 ایس ایچ اوز کو بھی معطل کر کے انھیں سینٹرل پولیس آفس ایڈمن برانچ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
معطل کیے جانے والوں میں ایس ایچ او پیرآباد ، عزیزآباد ، گلبہار ، سولجربازار ، جمشیدکواٹرز اور رضویہ شامل ہیں۔
عہدوں سے ہٹائے جانے والے ایس ڈی پی او میں ناظم آباد ڈسٹرکٹ سینٹرل کے ڈی ایس پی کمال نسیم، ایس ڈی پی او عزیز آباد ڈی ایس پی محمد جاوید خان، ایس ڈی پی او گلبہار سید محمد رضا ، ایس ڈی پی او منگھوپیر ڈی ایس پی مسرور احمد جتوئی جبکہ ایس ڈی پی او جمشید کوارٹر ڈسٹرکٹ ایسٹ ڈی ایس پی محمد خان سہیل خٹک شامل ہیں۔
دریں اثنا ڈی آئی جی اسٹیبلیشمنٹ سینٹرل پولیس آفس کیپٹن (ر) پرویز احمد چانڈیو نے 6 ایس ایچ اوز کی معطلی اور تبادلے کا حکمنامہ جاری کیا۔
ڈسٹرکٹ سینٹرل کے 3 ایس ایچ اوز میں ایس ایچ او گلبہار انسپکٹر ہدایت الل ، ایس ایچ او عزیز آباد انسپکٹر وقار قیصر اور ایس ایچ او رضویہ سب انسپکٹر محمد ریاض کے علاوہ ایس ایچ او سولجر بازار انسپکٹر وقار عظیم ، ایس ایچ او جمشید کوارٹر امتیاز حسین زیدی جبکہ ایس ایچ او پیر آباد انسپکٹر انیس احمد شیخ شامل ہیں۔
معطل ایس ایچ اوز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایڈمن برانچ سینٹرل پولیس آفس میں رپورٹ کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایس ڈی پی او ایس ایچ اوز ایس ایچ او پولیس ا فس ڈی ایس پی
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔