اسلام آباد:

وزیر دفاعی پیداوار رضا حیات ہیراج نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے تقریباً ایک سال مذاکرات کے بعد دفاعی معاہدے کا مسورہ تیار کرلیا ہے جو خطے میں گزشتہ دو برس کے دوران ہونے والی کشیدگی کے خلاف ایک مضبوط اتحاد قائم کرنے کا اشارہ ہوسکتا ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق وزیر دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے ایک روز قبل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے کی تین بڑی طاقتوں کے درمیان ممکنہ دفاعی معاہدہ گزشتہ برس پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے معاہدے سے الگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کے درمیان معاہدے پر دستخط کے لیے حتمی اتفاق رائے درکار ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان معاہدہ جو پہلے ہی زیرغور ہے، معاہدے کا ڈرافٹ ہمارے پاس دستیاب ہے، ڈرافٹ سعودی عرب کے پاس دستیاب ہے اور یہی ڈرافٹ ترکیے کے پاس بھی دستیاب ہے اور تینوں ممالک تبادلہ خیال کر رہے ہیں اور یہ معاہدہ گزشتہ 10 ماہ سے جاری ہے۔

ادھر استنبول میں ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے پریس کانفرنس کے دوران تینوں ممالک کے درمیان مذاکرات سے متعلق سوال پر بتایا کہ مذاکرات ہوئے ہیں لیکن معاہدے پر کوئی دستخط نہیں ہوئے ہیں۔

ہاکان فیدان نے نشان دہی کی کہ خطے میں وسیع تر علاقائی تعاون اور اعتماد کی ضرورت ہے تاکہ اس بداعتمادی پر قابو پایا جا سکے جو دراڑیں اور مسائل کا باعث ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں بیرونی بالادستی شروع ہوجاتی ہے یا دہشت گردی سے جنم لینے والی جنگیں اور عدم استحکام خطے میں پھیلتے ہیں۔

ترک وزیرخارجہ نے کہا کہ ان سب کے آخر میں ہمارے پاس ایک تجویز ہے کہ تمام علاقائی ممالک کو سیکیورٹی کے مسئلہ پر ایک تعاون کا پلیٹ فارم بنانے کے لیے متحد ہوجانا چاہیے، علاقائی مسائل حل کیے جاسکتے ہیں اگر متعلقہ ممالک ایک دوسرے پر اعتماد کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملاقاتیں، مذاکرات ہو رہے ہیں لیکن ہم نے کسی معاہدے پر دستخط نہیں کیے، ہمارے صدر طیب اردوان کا وژن اجتماعی پلیٹ فارم ہے جو وسیع اور بڑے پیمانے تعاون اور استحکام ہے۔

اس سے قبل بلومبرگ کی رپورٹ میں اس حوالے سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ترکیے چاہتا ہے کہ سعودی عرب اور جوہری طاقت کے حامل پاکستان کے ساتھ دفاعی اتحاد میں شریک ہوں، اس اقدام سے ایک نئے سیکیورٹی اتحاد کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے، جس سے ممکنہ طور مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر طاقت کا توازن تبدیل ہوسکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مجوزہ توسیع بظاہر ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے پر مبنی ہے، جس کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کودوسرے پر حملہ تصور کیا جائے گا، یہ شق نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثلت رکھتی ہے، نیٹو اتحاد میں شامل ممالک میں امریکا کے بعد ترکی دوسری سب سے بڑی فوج کا حامل ملک ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سعودی عرب اور کے درمیان معاہدے پر نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے