Jasarat News:
2026-07-24@13:16:41 GMT

روس کا ایک اور علاقے پر قبضے کا دعویٰ‘ 1310یوکرینی ہلاک

اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک) روسی فوج نے نے دعویٰ کیا ہے کہ 24 گھنٹوں کے دوران یوکرین میں اپنے خصوصی فوجی آپریشن کے تحت سمی ریجن کے آبادیاتی مرکز کومارووکا کو آزاد کرالیا۔ اس دوران یوکرینی فوج کے 1310 اہلکار ہلاک ہو گئے۔ وزارت دفاع کے مطابق روسی فوج نے خصوصی فوجی آپریشن کے آغاز سے اب تک 670 جنگی طیارے، 283 ہیلی کاپٹرز، 108925 ڈرونز، 27ہزار 115 ٹینک اور دیگر آرمرڈ گاڑیاں، 32ہزار 567 فیلڈ آرٹلری اور 51ہزار 746 خصوصی فوجی گاڑیاں تباہ کی ہیں۔یہ تازہ ترین کامیابی روسی فوج کے متعدد فرنٹ لائنز پر جاری آپریشنز کا حصہ ہے، جس کا مقصد یوکرینی افواج اور ان کے ہتھیاروں پر مسلسل دباؤ ڈالنا اور علاقے کی سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔دوسری جانب یوکرین کا کہنا ہے کہ روس یوکرین کے مشرقی علاقے ڈونباس میں اپنے زیرِ قبضہ حصوں کو تیزی سے ایک بڑے فوجی اڈے میں تبدیل کر رہا ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ مقبوضہ ڈونباس کے مقامی باشندوں، یوکرینی حکام اور ماہرین کا مطابق اس عمل کا مقصد یورپ پر دباؤ ڈالنا اور جنگ کو طویل کرنا ہے۔ یوکرین کے قبضہ شدہ علاقوں میں روسی فوج کی بڑی تعداد موجود ہے جس کے باعث غیر قانونی کاروبار فروغ پا رہا ہے۔ روس ڈونباس کی معیشت کو مکمل طور پر فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ڈونباس کی آبادی کم ہو رہی ہے جبکہ پورا خطہ ایک عسکری مرکز میں بدلتا جا رہا ہے۔ کیف میں قائم تھنک ٹینکس کے مطابق یہ سب روسی سرزمین کے باہر ایک مستقل جنگی پلیٹ فارم بنانے کی کوشش ہے۔ روس نے اگرچہ تعمیر نو کے نام پر اربوں روبل صرف کیے ہیں تاہم شدید بدعنوانی کے باعث منصوبے ناکام ہو رہے ہیں۔ پانی کی شدید قلت ہے اور لوگ بارش اور برف پگھلا کر پینے پر مجبور ہیں۔ ایک بڑی آبی پائپ لائن کے منصوبے میں کرپشن کرنے کے سبب کئی افراد جیل جا چکے ہیں۔ روس نے اپنے مالی دباؤ کے باعث درجنوں روسی علاقوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ ڈونباس کے شہروں کی تعمیر نو کی سرپرستی کریں جس کے نتیجے میں خود روس کے کئی علاقوں میں بنیادی مسائل نظر انداز ہو رہے ہیں۔ ڈونباس آہستہ آہستہ ایک شہری خطے کے بجائے مکمل طور پر فوجی زون میں تبدیل ہو رہا ہے جس کے نتائج خطے اور یورپ دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: روسی فوج رہا ہے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • ایران کے بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے، طیارہ گرانے کا دعویٰ
  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد ہلاک
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار