افکار سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حقیقی آزادی
مسلم یا غیر مسلم سے قطع نظر محض ایک قوم ہونے کی حیثیت سے کسی قوم کے آزاد ہونے کا مطلب محض غیروں کی غلامی سے آزاد ہونا نہیں ہے‘ بلکہ اس لحاظ سے آزادی کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ ایک قوم کو خود اپنے معاملات چلانے کے اختیارات حاصل ہوں۔ ایک قوم خود یہ فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتی ہو کہ کن کے ہاتھوں میں وہ اپنے معاملات دے اور کن کے ہاتھوں میں نہ دے‘ اور یہ کہ جن کو وہ اس قابل نہ سمجھے انھیں وہ ہٹا سکے اور ان کی جگہ اپنے درمیان سے دوسرے لوگوں کو اُٹھا کر سامنے لاسکے۔ اس کو یہ آزادی حاصل ہو کہ اپنے ملک کے حالات کو جانے اور سمجھے۔ اس کو یہ آزادی حاصل ہو کہ اپنے ملک کے حالات کے بارے میں آزادانہ بحث مباحثہ کر کے رائے قائم کرے اور کوئی اس کے اس حق کو سلب نہ کر سکے۔ اس کی رائے ہوا میں اُڑ جانے والی چیز نہ ہو‘ بلکہ اس کی رائے کا وزن ہو اور وہ ایک فیصلہ کُن چیز ہو۔
٭—٭—٭
اس لحاظ سے آپ دیکھیں گے تو محسوس کریں گے کہ 21 سال کے دوران میں عملاً ایک دن کے لیے بھی آزادی ہمیں حاصل نہیں ہوئی۔ یہ آزادی آپ نے لڑ کر‘ اپنی جانیں دے کر اور اپنے مال قربان کر کے حاصل کی تھی۔ قاعدے کے مطابق یہ آزادی آپ کو انگریز سے منتقل ہوگئی تھی۔ لیکن دستوری طور پر وہ آپ کی مجلس دستورساز کے پاس رہن رہی۔ انگریزی اقتدار کے رخصت ہوجانے کے بعد یہ مجلسِ دستور ساز کا کام تھا کہ وہ آپ کے ملک کا دستور بناکر اس آزادی کو عملی طور پر آپ کی طرف منتقل کرتی۔ یہ آزادی نو سال تک اس کے پاس رہن رہی۔ نوسال کے بعد 1956ء میں فکِّ رہن ہوا۔ لیکن عملاً آپ اس وقت تک اس آزادی کو استعمال نہیں کر سکتے تھے جب تک ملک میں عام انتخابات نہ ہوجاتے۔ جب عام انتخاب سے اسمبلی وجود میں آتی تو عملاً آپ کی آزادی آپ کو منتقل ہوجاتی۔ اس کے بعد اگر آپ کے نمایندے آپ کی مرضی کے مطابق کام کرتے تو انھیں آپ کی تائید حاصل رہتی لیکن اگر وہ آپ کی مرضی کے مطابق کام نہ کرتے تو دوسرے انتخاب میں آپ ان کو ہٹا دیتے اور زیادہ بہتر اور اہل تر آدمیوں کو منتخب کرتے لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں‘ اس طریق کار کے آغاز کی نوبت ہی نہیں آنے دی گئی۔ انتخاب کی تاریخ مقرر ہوچکی تھی۔ فروری 1959ء میں انتخابات ہونے والے تھے لیکن قبل اس کے کہ وہ وقت آتا اور آپ ان کے ذریعے سے بحیثیت ایک قوم کے اپنی آزادی کو استعمال کرتے آپ کی اس آزادی کو اکتوبر 1958ء میں آپ سے چھین لیا گیا‘ اور اس کے بعد پونے چار سال تک ملک پر مارشل لا مسلّط رہا۔
٭—٭—٭
اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ دنیا کی کوئی قوم اپنی آزادی کی حفاظت نہیں کر سکتی اگر اس نے اپنے آپ کو معاشی حیثیت سے غلام بنا لیا ہو۔ اور دنیا کی کوئی قوم ایسی آنکھ کی اندھی اور گانٹھ کی پوری نہیں ہے جو آپ کو روپیہ دیتی چلی جائے لیکن روپے کے بدلے میں اپنا کوئی مفاد حاصل نہ کرے۔ وہ مفاد آپ سے سود کی شکل میں بھی حاصل کرتی ہے اور وہ اپنے مفاد کے لیے آپ پر طرح طرح کی قیود بھی عاید کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ماہرین ہمارے ہوں گے اور انھیں تم بھاری سے بھاری تنخواہ دو گے۔ مال ہم سے خریدنا ہوگا اور ہماری طے کی ہوئی قیمت پر خریدنا ہوگا‘ چاہے وہ چار گنا مہنگا ہی کیوں نہ ہو۔ اور نہ معلوم اندر ہی اندر کیا کیا پابندیاں عاید کی جاتی ہیں جن کی ہم کو خبر تک نہیں ہوتی‘ کیونکہ ہمیں سرے سے یہ حق ہی حاصل نہیں کہ ہم اپنے حکمرانوں سے یہ پوچھ سکیں کہ جناب‘ آپ دوسروں سے کیا معاملات کر رہے ہیں اور کن شرائط پر کر رہے ہیں۔ (آزادی‘ ص 5)
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا زادی کو یہ ا زادی ایک قوم کے بعد
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔