غیر جانبداری کے موقف پر قائم,ایران کے خلاف سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے،پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
غیر جانبداری کے موقف پر قائم,ایران کے خلاف سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے،پاکستان WhatsAppFacebookTwitter 0 15 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایران کے خلاف اپنی سرزمین و فضا استعمال نہ ہونے دینے کے مقف پر کاربند ہے۔ہفتہ وار بریفننگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو امیر قطر کی جانب سے ٹیلی فون کال موصول ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ اسی طرح نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ازبکستان کے وزیر خارجہ کی جانب سے بھی ٹیلی فون کال موصول ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کی گئی۔
علاوہ ازیں اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ٹیلی فونک گفتگو کی، جس میں ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ انہوں نے نے میانمر کے وزیر خارجہ سے بھی رابطہ کیا۔ اس کے علاوہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے انڈونیشیا کے وزیر سرمایہ کاری سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا۔امریکی ویزا پابندیوں سے متعلق سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم نے یہ رپورٹس دیکھی ہیں اور اس معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ترجمان کے مطابق امریکا اپنی ویزا پالیسی پر نظر ثانی کر رہا ہے اور امید ہے کہ امریکا جلد پاکستان کے لیے ویزے بحال کرے گا۔ امریکا کی امیگریشن سے متعلق ڈیویلپمنٹ رات گئے سامنے آئی ہے اور ہم اس معاملے کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ ہموار تجارتی تعلقات کا خواہشمند ہے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کی تجارت عالمی قوانین کے مطابق ہے۔ پاکستان تجارتی تعلقات کے حوالے سے ایران اور امریکا دونوں سے رابطے میں ہے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان اور دیگر ممالک کے درمیان تجارت قوانین کے تحت ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم پر اعتماد ہیں کہ ایران اپنی عقلمندی، فراست، قدیم تہذیب و جذبے سے حالات پر قابو پا لے گا۔ پاکستان نے ماضی میں ایران کے جوہری مذاکرات میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان ماضی کی طرح اب بھی ایران کے خلاف اپنی سرزمین اور فضائی حدود استعمال نہ ہونے دینے کے موقف پر قائم ہے اور آج بھی ہمارا مقف یہی رہے گا۔انہوں نے کہا کہ معاہدہ ابراہیمی پر پاکستان کا بینچ مارک ایک آزاد اور خودمختار ریاست فلسطین کا قیام ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان عرب اسلامی ممالک کے گروپ کے ذریعے غزہ امن عمل میں شریک ہے ۔ غزہ امن عمل کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے بارے میں سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے آگاہی ملی۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طلبہ کی واپسی کے معاملے پر کابل میں پاکستانی سفارت خانہ کام کر رہا ہے ، ہم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔ ایران میں پھنسے ہوئے طلبہ کی بڑی تعداد گوادر پہنچ چکی ہے ۔ پاکستانی حکومت ایران سے واپس لوٹنے والے طلبہ کی سہولت کاری کر رہی ہے۔ ایران میں پاکستانی سفارت خانے نے بھی لوٹنے والے طلبہ کی معاونت کی۔ترجمان کے مطابق اندازا بدھ کے روز 54 طلبہ جب کہ اس سے قبل 2 درجن کے قریب طلبہ ایران سے واپس پہنچ چکے ہیں ۔ جلد واپس آنے والے طلبہ کی تعداد سے متعلق مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد فوڈ اتھارٹی کی ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہرہ صدیق کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، نوٹیفکیشن سب نیوز پر ٹرمپ ایران پر مختصر مگر فیصلہ کن حملہ کرنا چاہتے ہیں: امریکی میڈیا کا انتباہ امریکا نے وینزویلا کا تیل باضابطہ طور پر بیچنا شروع کردیا احتساب عدالت: ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن، پرویز الہٰی پر فردِ جرم عائد سمندر پار پاکستانی حب الوطنی کی روشن مثال ، ریکارڈ ترسیلات زر پر وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین اور خالد نواز چیمہ کا خراجِ... پاکستان کی آبادی کے تناسب سے حج کوٹہ 2 لاکھ 30 ہزار کرنے کے لیے سعودی حکومت سے رابطے جاری، لاہور کو بھی روٹ... مظاہرین کو پھانسی دینےکی صورت میں بہت سخت کارروائی کریں گے: ٹرمپ کی ایران کو وارننگ
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایران کے خلاف
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔