سلینا جیٹلی کی شادی کی 15 ویں سالگرہ پر طلاق، شوہر پرسنگین الزامات
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
سابق مس انڈیا اور بالی ووڈ میں ابتدائی 2000 کی دہائی میں مقبولیت حاصل کرنے والی مشہور اداکارہ سلینا جیٹلی نے شوہر سے طلاق کی تکلیف دہ کہانی پہلی مرتبہ کھل کر بیان کی ہے اور بتایا کہ شادی کی 15 ویں سالگرہ کے موقع پر طلاق ہوئی اور شوہر پر تشدد، بچوں کی جدائی اور اثاثوں پر قبضے کی کوشش جیسے الزامات عائد کیے ہیں۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سلینا جیٹلی نے 2011 میں آسٹریا کے بزنس مین پیٹر ہیگ سے شادی کی اور بعد ازاں بیرون ملک منتقل ہوگئیں، مداحوں کا خیال تھا کہ وہ ایک پرسکون گھریلو زندگی گزار رہی ہیں، تاہم حقیقت اس کے برعکس نکلی اور حالیہ انکشاف میں اداکارہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ اپنے شوہر سے علیحدہ ہو چکی ہیں اور ان پر جسمانی اور ذہنی تشدد کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
سیلینا جیٹلی نے سوشل میڈیا پر جاری تفصیلی بیان میں اپنے سابق شوہر کے خلاف الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ طلاق کا فیصلہ اچانک نہیں تھا بلکہ وہ برسوں تک تشدد کا شکار رہیں اور بالآخر اپنی عزت نفس کی حفاظت کے لیے اس رشتے سے علیحدگی اختیار کی تاہم اس فیصلے کی انہیں بھاری قیمت چکانی پڑی اور وہ اپنے بچوں سے جدا ہو گئیں۔
بالی ووڈ اداکارہ نے جذباتی پوسٹ میں بتایا کہ انہیں پڑوسیوں کی مدد سے رات گئے آسٹریا سے باہر نکلنا پڑا اور انکشاف کیا کہ وہ بہت کم رقم کے ساتھ بھارت واپس آئیں اور اس دوران اپنے بچوں کو پیچھے چھوڑنا پڑا اور اپنی عزت نفس کے لیے آواز اٹھاتے ہوئے انہوں نے اپنے بچوں کو بھی کھو دیا۔
انہوں نے کہا کہ 11 اکتوبر 2025 کو رات تقریبا ایک بجے وہ مسلسل تشدد سے بچنے کے لیے آسٹریا سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جوائنٹ کسٹڈی کے عدالتی حکم کے باوجود انہیں اپنے بچوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، ان کے بچوں کو ان کے خلاف بولنے کے لیے ان پر جذباتی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
سلینا جیٹلی نے لکھا کہ بھارت واپس آنے کے بعد انہیں اپنے ہی گھر میں داخل ہونے کے لیے عدالت سے رجوع کرنا پڑا کیونکہ ان کے شوہر نے ملکیت ظاہر کی تھی اور طویل قانونی لڑائیوں کی وجہ سے انہیں مجبوراً بھاری قرضے لینا پڑا۔
انسٹاگرام پوسٹ میں سلینا جیٹلی نے طلاق کے حوالے سے چونکا دینے والا انکشاف کیا اور بتایا کہ ستمبر کے اوائل میں شادی کی 15ویں سالگرہ کے موقع پر ان کے شوہر انہیں یہ کہہ کر مقامی پوسٹ آفس لے گئے کہ ان کے لیے تحفہ آیا ہے، مگر وہاں انہیں تحفے کے بجائے طلاق کے کاغذات تھما دیے اور کہا یہ سالگرہ کا تحفہ ہے۔
انہوں کہا کہ اپنے بچوں کی خاطر کئی بار بغیر جھگڑے کے علیحدگی کی کوشش کی مگر مطالبہ کیا گیا کہ اپنی اس جائیداد سے بھی دستبردار ہوجائیں جو ان کے پاس شادی سے پہلے تھی اور ایسی شرائط قبول کریں جو ایک عورت اور ماں کے طور پر ان کی آزادی اور وقار کے خلاف تھیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سیلینا جیٹلی کو ایک اور مشکل کا سامنا ہے ان کے بھائی اس وقت متحدہ عرب امارات کی ایک جیل میں قید ہیں اور اداکارہ ان کے لیے قانونی مدد حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔
سیلینا جیٹلی کی مشہور فلموں میں نو انٹری، جانشین، ٹام، ڈک اینڈ ہیری اور تھینک یو شامل ہے اور طویل عرصے سے بالی ووڈ میں کام نہیں کر رہی ہیں تاہم اب ان کی درد بھری کہانی نے ان کے مداحوں کو دکھی کردیا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سلینا جیٹلی نے اپنے بچوں شادی کی کے لیے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔