حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد ان کا مطالبہ پورا ہونیوالا ہے، آئندہ ہفتے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی امید
موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000روپے سے کم کرکے 2,500روپے کرنے پر غور کر رہی ہے،ذرائع
شہر قائد کے باسی بھاری بھرکم ای چالان کی وجہ سے سخت پریشان ہیں تاہم اب ان کی پریشانی ختم ہونے والی ہے۔کراچی میں گزشتہ برس ای چالان کا سلسلہ شروع کیا گیا اور قانون کی خلاف ورزی پر گاڑی مالکان کو بھاری مالیت کے چالان بھیجے جانے لگے۔کراچی کے موٹر سائیکل سوار اور کار مالکان ان بھاری مالیت کے چالانوں کی وجہ سے سخت پریشانی کا شکار ہوئے اور کئی بار جیبوں پر بھاری پڑنے والے ان جرمانوں کی رقم میں کمی کا مطالبہ کیا گیا۔تاہم اب لگتا ہے کہ ان کا مطالبہ پورا ہونے والا ہے اور کراچی میں کاروں، موٹر سائیکلوں کے ای چالان جرمانے کی شرح میں 50 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔ٹریفک جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد سندھ حکومت کراچی میں کار اور موٹر سائیکل کے ای-چالان کے جرمانے کم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اور ٹریفک جرمانوں کی شرح کو روک کر کم کرنے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ سندھ حکومت موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000 روپے سے کم کرکے 2,500 روپے کرنے پر غور کر رہی ہے، جبکہ 1,000 سی سی سے کم گاڑیوں کے ای چالان کے جرمانوں میں بھی اسی تناسب سے کمی دیکھی جا سکتی ہے۔اس معاملے پر حتمی فیصلہ آئندہ ہفتے وزیر داخلہ سندھ کی زیر صدارت خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ کمیٹی کی منظوری کے بعد نئے جرمانوں کا نوٹیفکیشن بھی جلد ہی جاری ہونے کی امید ہے۔گزشتہ سال سندھ حکومت نے موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کے سیکشن 121-A کے تحت بارہویں شیڈول میں ترمیم کرکے صوبے بھر میں ٹریفک کی خلاف ورزیوں پر جرمانے اور ڈی میرٹ پوائنٹس کا نیا ڈھانچہ نافذ کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔