data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260116-03-3
پنٹاگون کی جانب سے فوجی ڈھانچے میں مصنوعی ذہانت کے بھرپور اور فیصلہ کن استعمال کا اعلان درحقیقت محض ایک تکنیکی پیش رفت نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں ایک گہرے اور دور رس تغیر کا اشارہ ہے۔ پیٹاگون چیف پیٹ ہیگ سیٹھ کے مطابق امریکی فوج اب اس مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں روایتی عسکری قوت کے ساتھ ساتھ الگورتھمز، خودکار نظام اور ذہین مشینیں فیصلہ سازی اور میدانِ جنگ کی صورت گری میں مرکزی کردار ادا کریں گی۔ ان کے بقول اگر امریکا کو اپنی فوجی برتری برقرار رکھنی ہے تو اسے تجربات، تحقیق اور سرمایہ کاری کے عمل کو تیز کرنا ہوگا اور بیوروکریسی کی وہ رکاوٹیں ختم کرنا ہوں گی جو جدید ٹیکنالوجی کو عملی شکل دینے میں تاخیر کا سبب بنتی ہیں۔

گزشتہ دو دہائیوں میں جنگ کا تصور بتدریج بدلتا رہا ہے۔ جہاں ایک وقت میں فوجی قوت کا دارومدار تعداد، اسلحے اور جغرافیائی کنٹرول پر تھا، وہیں اب معلومات، رفتار اور درست فیصلے، ’فیصلہ کن‘ حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ مصنوعی ذہانت اسی تبدیلی کی علامت ہے، جو انسانی ذہن کی حدود کو وسعت دیتے ہوئے لمحوں میں ایسے تجزیے پیش کر سکتی ہے جن میں انسان کو گھنٹے یا دن لگ سکتے ہیں۔ پنٹاگون کی نئی حکمت عملی اسی حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ مستقبل کی جنگیں محض بندوق اور ٹینک سے نہیں بلکہ ڈیٹا، سینسرز، سیٹلائٹس اور ذہین سافٹ ویئر سے لڑی جائیں گی۔

ہیگ سیٹھ کے بیان میں خاص طور پر اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ اے آئی کو فوج کے تمام شعبوں میں مربوط انداز میں استعمال کیا جائے گا۔ منصوبہ بندی کے مرحلے سے لے کر لاجسٹکس، انٹیلی جنس اور براہِ راست لڑائی تک، ہر سطح پر مصنوعی ذہانت فیصلوں کو زیادہ مؤثر، تیز اور کم خرچ بنانے میں مدد دے گی۔ مثال کے طور پر لاجسٹکس میں اے آئی سپلائی چین کو اس طرح منظم کر سکتی ہے کہ ہتھیار، ایندھن اور خوراک عین وقت پر درست مقام پر پہنچیں، جس سے وسائل کے ضیاع اور تاخیر کے مسائل کم ہوں گے۔ اسی طرح انٹیلی جنس کے شعبے میں یہ ٹیکنالوجی لاکھوں تصاویر، سگنل اور رپورٹوں کا تجزیہ کر کے پوشیدہ خطرات کی نشاندہی کر سکتی ہے۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر بڑی طاقتیں مصنوعی ذہانت کو عسکری میدان میں سبقت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھ رہی ہیں۔ چین، روس اور دیگر ممالک بھی اے آئی پر مبنی دفاعی نظاموں، خودکار ڈرونز اور سائبر صلاحیتوں پر تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں امریکا کا یہ اقدام ایک واضح پیغام ہے کہ وہ اس دوڑ میں پیچھے رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ تاہم اس دوڑ کے ساتھ اخلاقی، قانونی اور انسانی سوالات بھی جڑے ہوئے ہیں جنہیں نظرانداز کرنا مستقبل میں سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر لڑائی کا تصور جہاں کارکردگی اور درستی میں اضافے کا وعدہ کرتا ہے، وہیں انسانی کنٹرول اور ذمے داری کے سوال کو بھی جنم دیتا ہے۔ اگر خودکار نظام کسی ہدف کو نشانہ بناتے ہیں تو غلطی کی صورت میں جواب دہی کس پر عائد ہوگی؟ کیا فیصلہ سازی کا اختیار مکمل طور پر مشینوں کے حوالے کرنا انسانیت کے لیے محفوظ ہے؟ پنٹاگون کی قیادت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ انسانی نگرانی کو برقرار رکھا جائے گا، مگر عملی سطح پر یہ توازن قائم رکھنا ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

ایک اور اہم پہلو بیوروکریسی کے خاتمے کا اعلان ہے، جو دراصل اس اعتراف کے مترادف ہے کہ روایتی سرکاری ڈھانچے تیز رفتار تکنیکی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو پاتے۔ دفاعی شعبے میں فیصلوں کی سست رفتاری اور پیچیدہ ضابطے اکثر نئی اختراعات کو برسوں تک فائلوں میں قید رکھتے ہیں۔ اگر پنٹاگون واقعی ان رکاوٹوں کو دور کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ قدم نہ صرف اے آئی بلکہ دیگر جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں بھی سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ پیش رفت عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ جیسے جیسے فوجی طاقت کا انحصار ذہین نظاموں پر بڑھے گا، ویسے ویسے روایتی عسکری اتحاد اور طاقت کے پیمانے تبدیل ہوں گے۔ چھوٹے ممالک بھی نسبتاً کم وسائل کے باوجود جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے غیر متناسب اثر ڈالنے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں، جس سے عالمی عدم استحکام میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اس تناظر میں پنٹاگون کی حکمت عملی صرف دفاعی منصوبہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر جیو اسٹرٹیجک بیانیے کا حصہ ہے۔

امریکی معاشرے کے اندر بھی اس اعلان پر بحث جاری ہے۔ کچھ حلقے اسے قومی سلامتی کے لیے ناگزیر قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے جنگ کے غیر انسانی ہونے کی طرف ایک اور قدم سمجھتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ جب مشینیں فیصلے کرنے لگتی ہیں تو جنگ کی ہولناکی سے انسانی ضمیر کا رشتہ کمزور پڑ جاتا ہے، جس سے طاقت کے استعمال میں احتیاط ختم ہو سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پالیسی سازی میں شفافیت، اخلاقی اصول اور بین الاقوامی قوانین کو مرکزی حیثیت دی جائے۔

بالآخر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پنٹاگون کی نئی حکمت عملی مستقبل کی جنگوں کا خاکہ پیش کرتی ہے، جہاں مصنوعی ذہانت محض معاون نہیں بلکہ فیصلہ کن عنصر ہوگی۔ یہ تبدیلی جتنی ناگزیر دکھائی دیتی ہے، اتنی ہی حساس اور پیچیدہ بھی ہے۔ اگر اسے دانشمندی، ذمے داری اور عالمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو یہ انسانی جانوں کے تحفظ اور تنازعات کی شدت میں کمی کا ذریعہ بن سکتی ہے، مگر اگر طاقت کے نشے میں اس کے اخلاقی پہلو کو نظرانداز کیا گیا تو یہی ٹیکنالوجی عدم استحکام اور تباہی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں جدید جنگ اور انسانی شعور کا امتحان شروع ہوتا ہے۔

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مصنوعی ذہانت پنٹاگون کی نہیں بلکہ سکتا ہے طاقت کے سکتی ہے کے ساتھ اے ا ئی

پڑھیں:

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر

سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔

 محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔

 واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔ 

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان