Jasarat News:
2026-06-03@01:13:59 GMT

قومی خزانے پر 4 ارب ڈالر سالانہ بیوروکریٹک ڈاکے کا اعتراف

اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے حال ہی میں ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے سرکاری اداروں میں سالانہ ایک ہزار ارب روپے (تقریباً 3.6 بلین امریکی ڈالر) ضائع ہو رہے ہیں۔ یہ رقم قومی خزانے پر واضح ڈاکا ہے، جو ناقص انتظام، سبسڈیز کی غلط تقسیم اور سب سے بڑھ کر کرپشن کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ پی ڈبلیو ڈی، پی اے ایس سی او، یوٹیلٹی اسٹورز، این ایچ اے، پاکستان ریلوے، پاکستان اسٹیل ملز اور پاور سیکٹر کے اداروں جیسے این ای ایس سی او، کوئٹہ الیکٹرک اور سکھر الیکٹرک میں یہ نقصان صاف دکھائی دیتا ہے، جہاں مالی سال 2024-25 میں کل خسارہ 122.

9 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال سے 300 فی صد زیادہ ہے۔ لیکن اصل مسئلہ اداروں کا نظام نہیں، بلکہ بیوروکریسی کی کرپشن ہے جو ان اداروں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ یہ لوگ حکمرانی کے لیے پیدا ہوتے ہیں، قومی خدمت کے لیے نہیں۔ یہ اعدادو شمار محض ہنگامہ خیزی نہیں، بلکہ قوم کے مستقبل پر حملہ ہیں۔ جب این ایچ اے 153 ارب کا خسارہ دے رہا ہو، ریلوے 26.5 ارب کا، اور اسٹیل ملز 15.6 ارب کا، تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ سب کس کی ناکامی ہے؟

جواب واضح ہے: ایک فرسودہ سی ایس ایس نظام، جو برطانوی نوآبادیاتی دور کا ورثہ ہے، اور جو آج بھی انگریزوں جیسے ’’آقا‘‘ تیار کرتا ہے۔ یہ نظام قومی خزانے کی رگوں میں زہر گھول رہا ہے، اور اسے ختم کیے بغیر کوئی اصلاح ممکن نہیں۔ کرپشن اداروں کی جڑ میں بیٹھی ہوئی ہے اور بیوروکریسی کا ہتھیار بن گئی ہے۔ سرکاری اداروں کا خسارہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں، بلکہ منظم کرپشن کا نتیجہ ہے۔ یوٹیلیٹی اسٹورز میں سبسڈی کی چوری، پی ڈبلیو ڈی میں ٹھیکوں کی تقسیم، اور پاسکو میں اختیارات کا غلط استعمال – یہ سب بیوروکریٹس کی ملی بھگت کا کمال ہیں۔ ان اداروں کا بنیادی ڈھانچہ ٹھیک ہے؛ مسئلہ تو انتظامیہ ہے جو اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، پاور سیکٹر میں سرکلز اور ٹرانسفارمرز کی سبسڈی پر اربوں روپے لیے جاتے ہیں، جبکہ اصل صارفین تک رسائی نہیں۔ یہ کرپشن بیوروکریسی کی پیداوار ہے، جو سی ایس ایس کے تحت تیار ہوتی ہے۔ یہ افسران عام گریجویٹس ہوتے ہیں، جنہیں کوئی تکنیکی مہارت نہیں ہوتی۔ سائنس کے اداروں میں ایک سادہ گریجویٹ کو بٹھا دیا جاتا ہے، جبکہ وہاں PhD سائنسدان ہونے چاہییں۔ اس دانستہ نااہلی کا نتیجہ خسارے اور ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ لوگ حکمرانی کرتے ہیں، خدمت نہیں۔ ان کا کام عوام پر رعب جھاڑنا ہے، نہ کہ اداروں کو چلانا۔ جب تک ایسے ’’آقا‘‘ پیدا ہوتے رہیں گے، خسارہ جاری رہے گا۔ اصل حل یہی ہے کہ اداروں میں مہارت کی بنیاد پر بھرتیاں ہوں: انجینئرنگ میں انجینئر، سائنس میں سائنسدان، معیشت میں ماہرین معیشت۔

سی ایس ایس نظام: انگریزی آقا کی فیکٹری؛ سی ایس ایس کا نظام برطانوی دور کا جینیاتی مرض ہے، جو 1947 کے بعد بھی زندہ ہے۔ یہ انگریزوں کی طرح کے مغرور، حکمران افسران تیار کرتا ہے، قوم کے نوکر نہیں۔ مقابلے کے امتحان کا نصاب فرسودہ ہے، جو روٹ لرننگ اور جنرل نالج پر مبنی ہے، نہ کہ عملی مہارت پر۔ نتیجہ یہ کہ سائنسی تحقیق کے اداروں میں بیٹھے افسران سائنس سے ناواقف ہوتے ہیں، صرف حکمرانی کرتے ہیں۔ یہ نظام قومی خزانے پر ڈاکا ڈالنے کا آلہ ہے۔ بیوروکریٹس اور اشرافیہ سالانہ اربوں ڈالر کی مراعات وصول کرتی ہے۔ بجلی کے بل، پٹرول، گھر کا کرایہ، صحت کا خرچہ؛ سب قوم ادا کرتی ہے۔ جبکہ ان کی تنخواہیں بھی لاکھوں روپے ماہانہ ہیں، تو وہ خود اپنے یوٹیلیٹی بلز کیوں نہیں ادا کرتے؟ اقوام متحدہ کی ترقیاتی فنڈ (UNDP) کی 2021 رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی بیوروکریسی اور اشرافیہ 14.7 بلین ڈالر سالانہ مراعات اور تنخواہوں پر خرچ کرتی ہے، جو یو این افسران کی تنخواہوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔ یہ اعدادو شمار قومی خزانے کی چور راہوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ وزیر خزانہ اورنگزیب خود مبینہ طور پر تین کروڑ روپے ماہانہ وصول کرتے ہیں، اللہ بہتر جانے اس بات میں کتنی صداقت ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ 14.7 ارب ڈالر کی مراعات تو ضرور حاصل کی جا رہی ہیں۔ اگر ان آقاؤں سے مراعات چھین لی جائیں، تو ایک ہزار ارب کا بڑا حصہ بچ جائے گا۔ بیوروکریسی کا نظام کرپشن کی مدد کرتا ہے، اسے ختم کرنا ہوگا۔ اس کی جگہ میرٹ بیسڈ سول سروس ہو، جہاں ہر شعبے میں ماہرین بٹھائے جائیں۔

مراعات کا بوجھ: قوم کا خون پینے والا عفریت؛ بیوروکریٹس کی مراعات قومی معیشت کی رڑ کی جڑ ہیں۔ یو این ڈی پی رپورٹ واضح کہتی ہے کہ 14.7 بلین ڈالر سالانہ کا یہ خرچ پاکستان جیسے غریب ملک کے لیے ناقابل ِ برداشت ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول، گھر، کار اور اسپتال کا خرچ۔ سب مفت! جب تنخواہ کروڑوں میں ہو، تو یہ لوگ اپنے ذاتی اخراجات اور یوٹیلیٹی بلز خود کیوں نہیں ادا کرتے؟ یہ اشرافیہ قوم پر حکمرانی کرتی ہے، خدمت نہیں۔ مثال کے طور پر، ایک سیکرٹری یا جوائنٹ سیکرٹری کی تنخواہ اور مراعات لاکھوں روپے ماہانہ ہیں، پھر بھی قوم ان کے بل ادا کرتی ہے۔ وزیر خزانہ کا مبینہ تین کروڑ روپے ماہانہ تنخواہ کا افواہ ہو یا حقیقت، یہ مراعات کا کلچر ہی اصل مسئلہ ہے۔ اسے ختم کرکے اداروں کو ماہرین سونپ دیں، تو خسارہ ختم ہو جائے گا۔ سائنسی اور انجینئرنگ کے اداروں میں سائنسدان، انفرا اسٹرکچر میں انجینئرز، اور ہر جگہ متعلقہ ماہرین۔

حل: سی ایس ایس ختم کرکے میرٹ بیسڈ سسٹم لانا ہے۔ ہر ادارے میں کام کی مہارت رکھنے والوں کو بھرتی کریں۔ سائنس میں پی ایچ ڈی، معیشت میں اقتصادی ماہرین، ٹرانسپورٹ میں لوجسٹکس کے ماہر۔ یو این ڈی پی رپورٹ کی روشنی میں مراعات ختم کریں۔ بیوروکریٹس خود اپنے بل ادا کریں۔ یہ قدم قومی خزانے کو ڈکیتی سے بچائے گا اور اداروں کو منافع بخش بنائے گا۔

وزیر خزانہ سے سوال: آپ نے خسارہ روکنے کے لیے کیا کیا؟ نجکاری تو ہوئی، لیکن اس میں بیوروکریسی نے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا یہ نجکاری کمیشن کی بیوروکریسی تھی جس نے اربوں ڈالر بلکہ کھربوں روپے کے اثاثے کوڑیوں کے مول بیچ دیے۔ لیکن قومی خزانے کو بچانے کے لیے بیوروکریسی کی اصلاح کیوں نہیں؟ قوم منتظر ہے۔ یہ وقت عمل کا ہے۔ سی ایس ایس کا فرسودہ نظام ختم کرو، کرپشن کے ڈاکوں کو روکو، اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالو۔ قوم کا خون نہ پیو، خدمت کرو۔ تقریر کر کے یہ نہ بتاؤ کہ بیوروکریسی کی بد انتظامی اور کرپشن کی قیمت ہزار ارب روپے سالانہ ہے۔

وجیہ احمد صدیقی سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بیوروکریسی کی روپے ماہانہ سی ایس ایس کے اداروں اداروں کو کرتے ہیں کرتی ہے ارب کا کے لیے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا

ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔

 ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔

 آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔ 

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔

 قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔ 

 وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔

 اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
 

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر