Islam Times:
2026-07-24@01:10:10 GMT

پشاور، قومی پیغام امن کانفرنس کا احوال

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

پشاور، قومی پیغام امن کانفرنس کا احوال

اسلام ٹائمز: کمیٹی نے اعلان کیا کہ جمعہ کو ملک بھر میں یومِ پیغامِ پاکستان منایا جائے گا اور ریاست و افواجِ پاکستان کے ساتھ اتحاد پر زور دیا گیا۔ پیغامِ پاکستان کو بنیادی قومی اتفاقِ رائے قرار دیا گیا۔ قومی پیغامِ امن کمیٹی نے قرار دیا کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات سرحد پار سے منسلک قرار دے کر افغانستان سے پاکستان میں امن یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ رپورٹ: سید عدیل عباس

قومی پیغام امن کمیٹی کی جانب سے ایک کانفرنس کا انعقاد گورنر ہاوس پشاور میں کیا گیا، جس میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، پیغام امن کمیٹی کے کوآرڈی نیٹر علامہ طاہر اشرفی، مفتی عبدالرحیم، رکن اسلامی نظریاتی کونسل علامہ حسین اکبر، شیعہ علماء کونسل کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی سمیت مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام نے شرکت کی۔ اس موقع پر دینی قیادت نے متفقہ طور پر دہشت گردی کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے پیغامِ پاکستان کو آئین کے بعد سب سے مضبوط قومی اتفاقِ رائے قرار دیا۔ کمیٹی نے اعلان کیا کہ جمعہ کو ملک بھر میں یومِ پیغامِ پاکستان منایا جائے گا اور ریاست و افواجِ پاکستان کے ساتھ اتحاد پر زور دیا گیا۔ پیغامِ پاکستان کو بنیادی قومی اتفاقِ رائے قرار دیا گیا۔ قومی پیغامِ امن کمیٹی نے قرار دیا کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات سرحد پار سے منسلک قرار دے کر افغانستان سے پاکستان میں امن یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔

افواجِ پاکستان کو اسلام اور امن کے محافظ قرار دیا گیا، اسلام کو امن اور محبت کا دین قرار دیا گیا، کسی بھی بے گناہ کے قتل کو حرام قرار دیا گیا، فتنہ کے خلاف جدوجہد کو جہادِ اکبر قرار دیا گیا۔ گورنر خیبر پختونخوا نے کمیٹی کے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، جبکہ عوام بھی اس عفریت سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پوری قوم اس جنگ میں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ قومی پیغام امن کمیٹی نے جمعہ کو ملک بھر میں پیغام امن کے نام سے منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نماز جمعہ کے خطبے میں بھی اس حوالے سے بیانات جاری کیے جائیں گے۔ اس حوالے سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور قومی پیغام امن کمیٹی کے علماء کرام نے گورنر ہاؤس پشاور میں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

پیغام امن کمیٹی کے کوآرڈی نیٹر علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ قومی پیغام امن کمیٹی ملک بھر میں جائے گی اور اس کا آغاز ہم نے پشاور سے کیا ہے کیونکہ یہ صوبہ دہشت گردی سے بہت متاثر ہوا ہے، آج پہلا دورہ پشاور کا ہے، اس کے بعد ملک کے دیگر شہروں میں بھی جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیغام پاکستان کی روشنی میں متفقہ فتویٰ پر امام کعبہ سمیت تمام علامہ کے دستخط شامل ہیں، خودکش دھماکوں کے خلاف سب سے پہلا فتویٰ بھی پاکستان کے علامہ کا آیا تھا، بے گناہوں کو قتل کرنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، میرا فوجی جوان ہر روز اللہ سے شہادت مانگتا ہے، ان کی مائیں بھی یہی دعائیں کرتے ہیں ہم امن چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیغام امن کا بھی یہ ویژن ہے ملک کے خلاف جو بھی ہوگا ہم فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، میں نے سال 1984ء میں افغانستان جہاد میں حصہ لیا، کبھی کیڈٹ کالج کے بچے کبھی اے پی ایس کے بچے شہید ہورہے ہیں، افغان طالبان کو پاکستان کا امن اپنا امن سمجھنا ہوگا۔

مفتی عبدالرحیم نے کہا کہ دشمنوں کی حمایت خوارج سے بھی بدتر عمل ہے، ہم ملک میں امن چاہتے ہیں، افغانستان کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کیا چاہتا ہے، ہم پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، دہشت گردی کے واقعات میں بے گناہ لوگوں کو شہید کیا جا رہا ہے، بچوں اور خواتین کو بھی یہ لوگ نہیں بخشتے، ہمیں بتایا جائے کہ مساجد پر حملے کہاں جائز ہیں، ہم امن کا پیغام لے کر ہر شہر جائیں گے۔ کمیٹی کے دیگر ممبران کا کہنا تھا کہ 100 میں سے 70 فیصد حملے افغانستان سے ہوتے ہیں، افغان مہاجرین کو یہاں گھر دیے کیا یہ وفا کا صلہ ہمیں مل رہا ہے؟ ہمارا پیغام امن کا ہے ہم ہر شہر میں جائیں گے، صوبائی حکومت سے بھی یہی کہتے ہیں سلامتی اداروں کو بھی یہی کہتے ہیں جہاں ضرورت ہوگی وہاں جائیں گے، اس دہشت گردی میں بھی ہماری جیت ہوگی۔ انہوں ںے کہا کہ ملا عمر کا کشمیر کے حوالے سے موقف بالکل مختلف تھا، آج کس کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف باتیں کر رہے ہیں، پاکستان کے تمام مدارس کے علماء یہاں موجود ہیں، ایک مسجد بھی پاکستان کے خلاف نہ ہے نہ ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: قومی پیغام امن کمیٹی قرار دیا گیا ملک بھر میں پاکستان کو پاکستان کے نے کہا کہ جائیں گے کمیٹی نے کمیٹی کے گردی کے کے خلاف کے ساتھ امن کا بھی یہ

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار

آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔

یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔

شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف