پشاور، قومی پیغام امن کانفرنس کا احوال
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: کمیٹی نے اعلان کیا کہ جمعہ کو ملک بھر میں یومِ پیغامِ پاکستان منایا جائے گا اور ریاست و افواجِ پاکستان کے ساتھ اتحاد پر زور دیا گیا۔ پیغامِ پاکستان کو بنیادی قومی اتفاقِ رائے قرار دیا گیا۔ قومی پیغامِ امن کمیٹی نے قرار دیا کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات سرحد پار سے منسلک قرار دے کر افغانستان سے پاکستان میں امن یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ رپورٹ: سید عدیل عباس
قومی پیغام امن کمیٹی کی جانب سے ایک کانفرنس کا انعقاد گورنر ہاوس پشاور میں کیا گیا، جس میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، پیغام امن کمیٹی کے کوآرڈی نیٹر علامہ طاہر اشرفی، مفتی عبدالرحیم، رکن اسلامی نظریاتی کونسل علامہ حسین اکبر، شیعہ علماء کونسل کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی سمیت مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام نے شرکت کی۔ اس موقع پر دینی قیادت نے متفقہ طور پر دہشت گردی کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے پیغامِ پاکستان کو آئین کے بعد سب سے مضبوط قومی اتفاقِ رائے قرار دیا۔ کمیٹی نے اعلان کیا کہ جمعہ کو ملک بھر میں یومِ پیغامِ پاکستان منایا جائے گا اور ریاست و افواجِ پاکستان کے ساتھ اتحاد پر زور دیا گیا۔ پیغامِ پاکستان کو بنیادی قومی اتفاقِ رائے قرار دیا گیا۔ قومی پیغامِ امن کمیٹی نے قرار دیا کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات سرحد پار سے منسلک قرار دے کر افغانستان سے پاکستان میں امن یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔
افواجِ پاکستان کو اسلام اور امن کے محافظ قرار دیا گیا، اسلام کو امن اور محبت کا دین قرار دیا گیا، کسی بھی بے گناہ کے قتل کو حرام قرار دیا گیا، فتنہ کے خلاف جدوجہد کو جہادِ اکبر قرار دیا گیا۔ گورنر خیبر پختونخوا نے کمیٹی کے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، جبکہ عوام بھی اس عفریت سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پوری قوم اس جنگ میں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ قومی پیغام امن کمیٹی نے جمعہ کو ملک بھر میں پیغام امن کے نام سے منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نماز جمعہ کے خطبے میں بھی اس حوالے سے بیانات جاری کیے جائیں گے۔ اس حوالے سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور قومی پیغام امن کمیٹی کے علماء کرام نے گورنر ہاؤس پشاور میں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
پیغام امن کمیٹی کے کوآرڈی نیٹر علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ قومی پیغام امن کمیٹی ملک بھر میں جائے گی اور اس کا آغاز ہم نے پشاور سے کیا ہے کیونکہ یہ صوبہ دہشت گردی سے بہت متاثر ہوا ہے، آج پہلا دورہ پشاور کا ہے، اس کے بعد ملک کے دیگر شہروں میں بھی جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیغام پاکستان کی روشنی میں متفقہ فتویٰ پر امام کعبہ سمیت تمام علامہ کے دستخط شامل ہیں، خودکش دھماکوں کے خلاف سب سے پہلا فتویٰ بھی پاکستان کے علامہ کا آیا تھا، بے گناہوں کو قتل کرنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، میرا فوجی جوان ہر روز اللہ سے شہادت مانگتا ہے، ان کی مائیں بھی یہی دعائیں کرتے ہیں ہم امن چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیغام امن کا بھی یہ ویژن ہے ملک کے خلاف جو بھی ہوگا ہم فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، میں نے سال 1984ء میں افغانستان جہاد میں حصہ لیا، کبھی کیڈٹ کالج کے بچے کبھی اے پی ایس کے بچے شہید ہورہے ہیں، افغان طالبان کو پاکستان کا امن اپنا امن سمجھنا ہوگا۔
مفتی عبدالرحیم نے کہا کہ دشمنوں کی حمایت خوارج سے بھی بدتر عمل ہے، ہم ملک میں امن چاہتے ہیں، افغانستان کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کیا چاہتا ہے، ہم پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، دہشت گردی کے واقعات میں بے گناہ لوگوں کو شہید کیا جا رہا ہے، بچوں اور خواتین کو بھی یہ لوگ نہیں بخشتے، ہمیں بتایا جائے کہ مساجد پر حملے کہاں جائز ہیں، ہم امن کا پیغام لے کر ہر شہر جائیں گے۔ کمیٹی کے دیگر ممبران کا کہنا تھا کہ 100 میں سے 70 فیصد حملے افغانستان سے ہوتے ہیں، افغان مہاجرین کو یہاں گھر دیے کیا یہ وفا کا صلہ ہمیں مل رہا ہے؟ ہمارا پیغام امن کا ہے ہم ہر شہر میں جائیں گے، صوبائی حکومت سے بھی یہی کہتے ہیں سلامتی اداروں کو بھی یہی کہتے ہیں جہاں ضرورت ہوگی وہاں جائیں گے، اس دہشت گردی میں بھی ہماری جیت ہوگی۔ انہوں ںے کہا کہ ملا عمر کا کشمیر کے حوالے سے موقف بالکل مختلف تھا، آج کس کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف باتیں کر رہے ہیں، پاکستان کے تمام مدارس کے علماء یہاں موجود ہیں، ایک مسجد بھی پاکستان کے خلاف نہ ہے نہ ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قومی پیغام امن کمیٹی قرار دیا گیا ملک بھر میں پاکستان کو پاکستان کے نے کہا کہ جائیں گے کمیٹی نے کمیٹی کے گردی کے کے خلاف کے ساتھ امن کا بھی یہ
پڑھیں:
عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔
اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔
ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔
مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت