قومی خزانے پر 4 ارب ڈالر سالانہ بیوروکریٹک ڈاکے کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260116-03-6
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے حال ہی میں ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے سرکاری اداروں میں سالانہ ایک ہزار ارب روپے (تقریباً 3.6 بلین امریکی ڈالر) ضائع ہو رہے ہیں۔ یہ رقم قومی خزانے پر واضح ڈاکا ہے، جو ناقص انتظام، سبسڈیز کی غلط تقسیم اور سب سے بڑھ کر کرپشن کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ پی ڈبلیو ڈی، پی اے ایس سی او، یوٹیلٹی اسٹورز، این ایچ اے، پاکستان ریلوے، پاکستان اسٹیل ملز اور پاور سیکٹر کے اداروں جیسے این ای ایس سی او، کوئٹہ الیکٹرک اور سکھر الیکٹرک میں یہ نقصان صاف دکھائی دیتا ہے، جہاں مالی سال 2024-25 میں کل خسارہ 122.
جواب واضح ہے: ایک فرسودہ سی ایس ایس نظام، جو برطانوی نوآبادیاتی دور کا ورثہ ہے، اور جو آج بھی انگریزوں جیسے ’’آقا‘‘ تیار کرتا ہے۔ یہ نظام قومی خزانے کی رگوں میں زہر گھول رہا ہے، اور اسے ختم کیے بغیر کوئی اصلاح ممکن نہیں۔ کرپشن اداروں کی جڑ میں بیٹھی ہوئی ہے اور بیوروکریسی کا ہتھیار بن گئی ہے۔ سرکاری اداروں کا خسارہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں، بلکہ منظم کرپشن کا نتیجہ ہے۔ یوٹیلیٹی اسٹورز میں سبسڈی کی چوری، پی ڈبلیو ڈی میں ٹھیکوں کی تقسیم، اور پاسکو میں اختیارات کا غلط استعمال – یہ سب بیوروکریٹس کی ملی بھگت کا کمال ہیں۔ ان اداروں کا بنیادی ڈھانچہ ٹھیک ہے؛ مسئلہ تو انتظامیہ ہے جو اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، پاور سیکٹر میں سرکلز اور ٹرانسفارمرز کی سبسڈی پر اربوں روپے لیے جاتے ہیں، جبکہ اصل صارفین تک رسائی نہیں۔ یہ کرپشن بیوروکریسی کی پیداوار ہے، جو سی ایس ایس کے تحت تیار ہوتی ہے۔ یہ افسران عام گریجویٹس ہوتے ہیں، جنہیں کوئی تکنیکی مہارت نہیں ہوتی۔ سائنس کے اداروں میں ایک سادہ گریجویٹ کو بٹھا دیا جاتا ہے، جبکہ وہاں PhD سائنسدان ہونے چاہییں۔ اس دانستہ نااہلی کا نتیجہ خسارے اور ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ لوگ حکمرانی کرتے ہیں، خدمت نہیں۔ ان کا کام عوام پر رعب جھاڑنا ہے، نہ کہ اداروں کو چلانا۔ جب تک ایسے ’’آقا‘‘ پیدا ہوتے رہیں گے، خسارہ جاری رہے گا۔ اصل حل یہی ہے کہ اداروں میں مہارت کی بنیاد پر بھرتیاں ہوں: انجینئرنگ میں انجینئر، سائنس میں سائنسدان، معیشت میں ماہرین معیشت۔
سی ایس ایس نظام: انگریزی آقا کی فیکٹری؛ سی ایس ایس کا نظام برطانوی دور کا جینیاتی مرض ہے، جو 1947 کے بعد بھی زندہ ہے۔ یہ انگریزوں کی طرح کے مغرور، حکمران افسران تیار کرتا ہے، قوم کے نوکر نہیں۔ مقابلے کے امتحان کا نصاب فرسودہ ہے، جو روٹ لرننگ اور جنرل نالج پر مبنی ہے، نہ کہ عملی مہارت پر۔ نتیجہ یہ کہ سائنسی تحقیق کے اداروں میں بیٹھے افسران سائنس سے ناواقف ہوتے ہیں، صرف حکمرانی کرتے ہیں۔ یہ نظام قومی خزانے پر ڈاکا ڈالنے کا آلہ ہے۔ بیوروکریٹس اور اشرافیہ سالانہ اربوں ڈالر کی مراعات وصول کرتی ہے۔ بجلی کے بل، پٹرول، گھر کا کرایہ، صحت کا خرچہ؛ سب قوم ادا کرتی ہے۔ جبکہ ان کی تنخواہیں بھی لاکھوں روپے ماہانہ ہیں، تو وہ خود اپنے یوٹیلیٹی بلز کیوں نہیں ادا کرتے؟ اقوام متحدہ کی ترقیاتی فنڈ (UNDP) کی 2021 رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی بیوروکریسی اور اشرافیہ 14.7 بلین ڈالر سالانہ مراعات اور تنخواہوں پر خرچ کرتی ہے، جو یو این افسران کی تنخواہوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔ یہ اعدادو شمار قومی خزانے کی چور راہوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ وزیر خزانہ اورنگزیب خود مبینہ طور پر تین کروڑ روپے ماہانہ وصول کرتے ہیں، اللہ بہتر جانے اس بات میں کتنی صداقت ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ 14.7 ارب ڈالر کی مراعات تو ضرور حاصل کی جا رہی ہیں۔ اگر ان آقاؤں سے مراعات چھین لی جائیں، تو ایک ہزار ارب کا بڑا حصہ بچ جائے گا۔ بیوروکریسی کا نظام کرپشن کی مدد کرتا ہے، اسے ختم کرنا ہوگا۔ اس کی جگہ میرٹ بیسڈ سول سروس ہو، جہاں ہر شعبے میں ماہرین بٹھائے جائیں۔
مراعات کا بوجھ: قوم کا خون پینے والا عفریت؛ بیوروکریٹس کی مراعات قومی معیشت کی رڑ کی جڑ ہیں۔ یو این ڈی پی رپورٹ واضح کہتی ہے کہ 14.7 بلین ڈالر سالانہ کا یہ خرچ پاکستان جیسے غریب ملک کے لیے ناقابل ِ برداشت ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول، گھر، کار اور اسپتال کا خرچ۔ سب مفت! جب تنخواہ کروڑوں میں ہو، تو یہ لوگ اپنے ذاتی اخراجات اور یوٹیلیٹی بلز خود کیوں نہیں ادا کرتے؟ یہ اشرافیہ قوم پر حکمرانی کرتی ہے، خدمت نہیں۔ مثال کے طور پر، ایک سیکرٹری یا جوائنٹ سیکرٹری کی تنخواہ اور مراعات لاکھوں روپے ماہانہ ہیں، پھر بھی قوم ان کے بل ادا کرتی ہے۔ وزیر خزانہ کا مبینہ تین کروڑ روپے ماہانہ تنخواہ کا افواہ ہو یا حقیقت، یہ مراعات کا کلچر ہی اصل مسئلہ ہے۔ اسے ختم کرکے اداروں کو ماہرین سونپ دیں، تو خسارہ ختم ہو جائے گا۔ سائنسی اور انجینئرنگ کے اداروں میں سائنسدان، انفرا اسٹرکچر میں انجینئرز، اور ہر جگہ متعلقہ ماہرین۔
حل: سی ایس ایس ختم کرکے میرٹ بیسڈ سسٹم لانا ہے۔ ہر ادارے میں کام کی مہارت رکھنے والوں کو بھرتی کریں۔ سائنس میں پی ایچ ڈی، معیشت میں اقتصادی ماہرین، ٹرانسپورٹ میں لوجسٹکس کے ماہر۔ یو این ڈی پی رپورٹ کی روشنی میں مراعات ختم کریں۔ بیوروکریٹس خود اپنے بل ادا کریں۔ یہ قدم قومی خزانے کو ڈکیتی سے بچائے گا اور اداروں کو منافع بخش بنائے گا۔
وزیر خزانہ سے سوال: آپ نے خسارہ روکنے کے لیے کیا کیا؟ نجکاری تو ہوئی، لیکن اس میں بیوروکریسی نے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا یہ نجکاری کمیشن کی بیوروکریسی تھی جس نے اربوں ڈالر بلکہ کھربوں روپے کے اثاثے کوڑیوں کے مول بیچ دیے۔ لیکن قومی خزانے کو بچانے کے لیے بیوروکریسی کی اصلاح کیوں نہیں؟ قوم منتظر ہے۔ یہ وقت عمل کا ہے۔ سی ایس ایس کا فرسودہ نظام ختم کرو، کرپشن کے ڈاکوں کو روکو، اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالو۔ قوم کا خون نہ پیو، خدمت کرو۔ تقریر کر کے یہ نہ بتاؤ کہ بیوروکریسی کی بد انتظامی اور کرپشن کی قیمت ہزار ارب روپے سالانہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بیوروکریسی کی روپے ماہانہ سی ایس ایس کے اداروں اداروں کو کرتے ہیں کرتی ہے ارب کا کے لیے
پڑھیں:
کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔
سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔
اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔
مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔