اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ کی اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ جمہوری نظام کے استحکام کے لیے تمام قانون ساز اداروں کے درمیان قریبی رابطہ اور مشاورت ناگزیر ہے، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے درمیان مثر رابطہ قانون سازی کے عمل کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسپیکر صوبائی اسمبلی سندھ سید اویس قادر شاہ نے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان سردار ایاز صادق سے ملاقات کی۔ملاقات میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور رکن قومی اسمبلی نوابزادہ عامر علی خان مگسی بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران قانون ساز اداروں کے مابین تعاون کے فروغ، پارلیمانی روابط کو مضبوط بنانے، موثر قانون سازی اور وفاق و صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید بہتر بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ جمہوری نظام کے استحکام کے لیے تمام قانون ساز اداروں کے درمیان قریبی رابطہ اور مشاورت ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے درمیان مثر رابطہ قانون سازی کے عمل کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے کہا کہ پارلیمانی تعاون نہ صرف عوامی مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوتا ہے بلکہ جمہوری اقدار اور ادارہ جاتی استحکام کو بھی فروغ دیتا ہے۔
انہوں نے پارلیمانی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی اور وفاقی قانون ساز اداروں کے درمیان تجربات کے تبادلے سے قانون سازی کے معیار میں بہتری آئے گی۔ اسپیکر سندھ اسمبلی نے فروری میں صوبائی اسمبلی سندھ کے زیرِ اہتمام ہونے والی دوسری مشترکہ سی پی اے ایشیا و ساتھ ایسٹ ایشیا ریجنل کانفرنس کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی نے پارلیمانی روابط کے فروغ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی قومی مفاد میں پالیسی سازی کے لیے ناگزیر ہے۔ ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال، قومی مفاد کے اہم امور اور دیگر باہمی دلچسپی کے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قانون ساز اداروں کے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق صوبائی اسمبلی کے درمیان نے کہا کہ سازی کے کے لیے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔