Jasarat News:
2026-06-02@22:18:41 GMT

مغربی ذہن کی ابلیسیت

اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ مغربی ذہن کی ابلیسیت کی بڑی علامت بن کر اُبھرے ہیں۔ اس کا ایک ثبوت ان کا یہ بیان ہے کہ وہ امریکی فوج کو کسی بھی ملک پر حملے کا حکم دے سکتے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں کسی بھی ملک پر حملے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا حملہ کرنے کا فیصلہ وہ اپنی طے کردہ اخلاقیات کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واحد چیز جو مجھے روک سکتی ہے وہ میرا دماغ اور میری شخصی اخلاقیات ہے۔ مغربی ذہن کی ابلیسیت کا ایک اور ثبوت نیویارک ٹائمز کا یہ دعویٰ ہے کہ صدر ٹرمپ کو ایران پر حملے کے Options کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کی وجہ سے اسرائیل ہائی الرٹ ہے۔

موجودہ عالمی نظام امریکا اور یورپ کا وضع کیا ہوا ہے۔ اس نظام میں جنگ کے اصول بھی طے شدہ ہیں۔ لیکن امریکا کے صد ڈونلڈ ٹرمپ خود مغرب کے وضع کردہ اصولوں کو پامال کر رہے ہیں۔ پہلے انہوںنے وینزویلا پر حملہ کرکے اس کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا کیا اور اب وہ وینزویلا کے 300 ارب بیرل تیل کے ذخائر پر قبضے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ وینزویلا کا تیل وینزویلا کے عوام کی ملکیت ہے اور امریکا کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس تیل پر قبضہ کرے۔ لیکن ٹرمپ فرما رہے ہیں کہ دنیا کی کوئی طاقت انہیں کسی بھی ملک پر حملے سے نہیں روک سکتی۔ انہیں کوئی روک سکتا ہے تو ان کا دماغ اور ان کی شخصی اخلاقیات لیکن اخلاقیات ’’شخصی‘‘ نہیں ہوتی۔ اخلاقیات یا تو مذہب سے آتی ہے یا انسانوں کی عظیم اکثریت کسی اصول اور ضابطے کو ’’اخلاقی‘‘ قرار دے دیتی ہے۔ لیکن مغربی دنیا کا قائد امریکا اعلان کر رہا ہے کہ وہ اخلاقیات کے کسی اجتماعی تصور کا قائل نہیں‘ اس کی اخلاقیات صرف اس کے صدر کی ذاتی اخلاقیات ہے۔ ایسے شخص کی اخلاقیات جو ’’عورت باز‘‘ ہونے کے لیے بدنام ہے۔ ایسا شخص دن دیہاڑے وینزویلا کے تیل پر قبضے کے لیے کوشاں ہے اور وہ ایران کو حملے کی دھمکی دے رہا ہے۔ لیکن ڈونلڈ کی ابلیسیت صرف ان تک محدود نہیں بلکہ پورا مغرب ایک ہزار سال سے اس ابلیسیت کا اظہار کر رہا ہے۔

مسلم دنیا ایک ارب 80 کروڑ انسانوں کی دنیا ہے مگر علم اور شعور کے زوال کی وجہ سے اس دنیا کو معلوم ہی نہیں کہ دو سو سال تک جاری رہنے والی صلیبی جنگیں کیسے شروع ہوئی تھیں؟ اس وقت مغرب کا رہنما ’’ڈونلڈ ٹرمپ‘‘ نہیں تھا بلکہ پوری مغربی دنیا اس وقت پوپ کے زیر اثر تھی اور ایک ہزار سال پہلے کے پوپ کا نام اربن دوم تھا۔ اربن دوم نے مسلمانوں کی جانب سے پہنچائی گئی کسی تکلیف کے بغیر کلیسا میں کھڑے ہو کر ایک تقریر کی اور فرمایا کہ اسلام معاذ اللہ ایک شیطانی مذہب ہے اور اس کے ماننے والے ایک شیطانی مذہب کے پیرو کار ہیں۔ پوپ اربن نے کہا کہ خدا نے یہ بات میرے قلب پر القا کی ہے کہ عیسائیوں کا یہ فرض ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اسلام جیسے شیطانی مذہب اور اس کے ماننے والوں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیں۔ پوپ اربن کی یہ اپیل صدا بہ صحرا ثابت نہیں ہوئی بلکہ پورا یورپ ایک جھنڈے کے نیچے جمع ہوا اور اس نے مسلمانوں کے خلاف ان صلیبی جنگوں کا آغاز کیا جو کم و بیش دو سو سال تک جاری رہیں۔ ان جنگوںکے پہلے مرحلے میں صلیبی افواج نے بیت المقدس میں اس بڑے پیمانے پر قتل عام کیا کہ مغربی مورخین کے مطابق بیت المقدس کی گلیوں میں اتنا خون تھا کہ گھوڑے چلانا دشوار تھا۔ یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح پوپ اربن دوم کی بھی کوئی ’’اجتماعی اخلاقیات‘‘ نہیں تھی بلکہ وہ بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح ’’شخصی اخلاقیات‘‘ کے زیر اثر تھا۔ اگر پوپ کی کوئی مذہبی اخلاقیات ہوتی تو وہ دیکھتا کہ سیدنا عیسیٰؑ کے اسوۂ حسنہ میں معصوم اور بے گناہ لوگوں کے قتل کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔

نائن الیون تو کل کی بات ہے۔ امریکا اور یورپ نے نائن الیون کا ذمے دار اسامہ بن لادن کو ٹھیرایا۔ لیکن امریکا کے صدر بش نے اپنی تقریر میں ’’کروسیڈ‘‘ یعنی صلیبی جنگ کے آغاز کا اعلان کر دیا۔ ’’مسلم دنیا‘‘ میں اس اصطلاح پر اعتراض ہوا تو امریکی صدر کی ترجمان نے وضاحت کی کہ تقریر کرتے ہوئے بش کی زبان پھسل گئی تھی۔ یہ وضاحت سفید جھوٹ تھی اس لیے کہ بش صاحب نے جس تقریر میں کروسیڈ کی اصطلاح استعمال کی وہ فی البدیہہ نہیں تھی۔ امریکا کے صدر ایک لکھی ہوئی تقریر کو پڑھ رہے تھے۔ چنانچہ ان کی زبان کے پھسلنے کا کوئی امکان ہی نہیں تھا۔ بش کی تقریر کے کچھ ہی دنوں بعد اٹلی کے وزیر اعظم سلویو برلسکونی سامنے آگئے۔ انہوں نے فرمایا کہ مغربی تہذیب اسلامی تہذیب سے برتر ہے۔ اسلامی تہذیب کے پاس ’’انسانی حقوق‘‘ کا کوئی تصور نہیں جب کہ مغربی تہذیب کے پاس انسانی حقوق کا تصور ِموجود ہے۔ جیسا کہ ظاہر تھا نائن الیون کی ذمے دار ’’اسلامی تہذیب‘‘ نہیں تھی۔ اس کی ذمے داری صرف اسامہ بن لادن اور القاعدہ نے قبول کی تھی۔ مگر برلسکونی کی بھی کوئی اجتماعی اخلاقیات نہیں تھی۔ چنانچہ انہوں نے ایک مسلمان اور ایک مسلم تنظیم کا سارا الزام پوری اسلامی تہذیب کے سر پر تھوپ دیا۔

اس زمانے میں امریکا کے اٹارنی جنرل ایش کرافٹ تھے۔ انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ عیسائیت کا خدا اسلام کے خدا سے برتر ہے کیوں کہ عیسائیت کے خدا نے اپنے بیٹے سیدنا عیسیٰؑ کو انسانیت کی بھلائی کے لیے قربان کر دیا جب کہ اسلام کا خدا ایسا خدا ہے جو اپنی عظمت کے اظہار کے لیے ’’شہادت‘‘ کی صورت میں مسلمانوں سے قربانی طلب کرتا ہے۔ امریکیوں کا غصہ اسامہ بن لادن پر تھا مگر ایش کرافٹ نے یہ غصہ اسلام کے خلاف تقریر کرکے نکالا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح ان کی بھی اخلاقیات ’’شخصی‘‘ تھی ’’اجتماعی‘‘ نہیں۔ ہوتی وہ نائن الیون کے لیے اسامہ بن لادن پر برستے۔ وہ اسلام اور عیسائیت کے تصورِ خدا کا موازنہ کرکے اسلام کے خدا کو حقیر ثابت کرنے کی ابلیسیت کا مظاہرہ نہ کرتے۔ اسی زمانے میں بی بی سی ورلڈ نے یورپ میں ناٹو کی افواج کے سابق کمانڈر جنرل کلاک کا ایک انٹرویو نشر کیا۔ اس انٹرویو میں جنرل کلارک نے نائن الیون سے پیدا ہونے والی عالمی فضا میں فرمایا کہ نائن الیون کے بعد مغرب کی جانب سے سامنے والی جنگ اپنی اصل میں اسلام کو Define کرنے والی جنگ ہے۔ مغرب کو طے یہ کرنا ہے کہ اسلام ایک پُرامن مذہب ہے جیسا کہ عام مسلمان کہتے ہیں یا یہ ایک ایسا مذہب ہے جو اسامہ بن لادن کی طرح لوگوں کو جنگ پر اُکساتا ہے؟ یہ انٹرویو ہم نے خود بی بی سی ورلڈ پر دیکھا۔ اس انٹرویو سے ثابت ہوا کہ امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں کی جنگ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے خلاف نہیں خود اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہے اور یہ مغرب کی تاریخی ابلیسیت کا ایک مظہر ہے۔

عام مسلمانوں کا خیال ہے کہ مغرب کی صلیبی جنگوں کو ختم ہوئے ایک ہزار سال ہو چکے اور اب مغرب صلیبی جنگوں کی نفسیات سے آزاد ہو چکا ہے مگر ایسا نہیں ہے۔ اس کا ایک ٹھوس ثبوت یہ ہے کہ 2009ء میں اس وقت کی پوپ بینی ڈکٹ شش دہم نے14 ویں صدی کے ایک عیسائی رہنما مینول دوم کا ایک قول فضا میں اچھال دیا تھا۔ اس قول میں مینول دوم نے کہا تھا کہ محمدؐ کیا نیا لائے ہیں۔ یعنی معاذ اللہ رسول اکرمؐ نے یہودیت اور عیسائیت کی تعلیمات کو ملا کر اسلام ایجاد کر لیا۔ مینول دوم نے یہ بھی فرما تھا کہ اسلام تلوار کے ذریعے پھیلا۔ پوپ بینی ڈکٹ نے یہ بیان فضا میں اچھالا تو معلوم ہوا کہ صلیبی جنگیں ابھی تک جاری ہیں۔

مغربی ذہن کی ابلیسیت کا ایک ثبوت مغربی اقوام کی بے پناہ لوٹ مار ہے۔ بھارت کی ممتاز محقق اُتسا پٹنائک نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ انگریز برصغیر سے 45 ہزار ارب ڈالر لوٹ کر لے گئے۔ یہ چوری، یہ ڈاکا زنی صرف انگریزوں نے ہی نہیںکی، تمام یورپی اقوام نے اپنی نو آبادیات کو لوٹا۔ چنانچہ آج اگر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا کے تیل کو لوٹنے کے منصوبے بنا رہا ہے تو یہ بات مغربی رہنمائوں کی قدیم ابلیسیت کے عین مطابق ہے۔

شاہنواز فاروقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مغربی ذہن کی ابلیسیت اسامہ بن لادن اسلامی تہذیب وینزویلا کے نائن الیون ڈونلڈ ٹرمپ ابلیسیت کا فرمایا کہ امریکا کے صلیبی جنگ نہیں تھی کہ اسلام انہوں نے کہ مغرب کے خلاف پر حملے کا ایک رہا ہے ہے اور کی طرح کے صدر کے لیے اور اس نے کہا

پڑھیں:

ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔

امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔

امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔

پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی