پاکستان کا یو اے ای سے 2.5 ارب ڈالرقرض کیلیے طویل مدت اور کم شرح سود کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک:پاکستان نے متحدہ عرب امارات سے 2.5 ارب ڈالر کے قرض کی 2سال کے لیے توسیع اور شرحِ سود تقریباً نصف کرنے کی درخواست کی ہے، جس میں وہ 450 ملین ڈالر کا قرض بھی شامل ہے جو 30 سال قبل ایک سال کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ درخواست اس عرصے میں کی گئی جب یو اے ای کے صدر ذاتی دورے پر پاکستان آئے تھے۔ یو اے ای کے صدر سے ملاقات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ یو اے ای نے قرض رول اوور کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
لاہور میں 187 ٹریفک حادثات؛ 217 افراد زخمی
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب عالمی بینک نے بھی جمعرات کو پاکستان کو آگاہ کیا کہ ملک میں سرمایہ کاری کی سطح 20 ارب ڈالر کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (CPF) کے تحت طے شدہ اہداف سے کم ہے۔
اسٹیٹ بینک اور وفاقی حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے یو اے ای سے مجموعی طور پر 2.
ایک ارب ڈالر جمعے کو میچور ہو گیا جبکہ مزید ایک ارب ڈالر آئندہ ہفتے میچور ہو رہا ہے۔ذرائع کے مطابق ادائیگی کا کوئی امکان نہیں تھا کیونکہ یو اے ای کے صدر پہلے ہی توسیع پر رضامند ہو چکے ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ قرض ایک سال کے لیے رول اوور ہوا ہے یا دو سال کے لیے۔
پنجاب میں پتنگ بازی پر پابندی ؛ خلاف ورزی پر قید اور جرمانے ہوں گے ؛ محکمہ داخلہ پنجاب
مرکزی بینک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دو سالہ توسیع کے ساتھ شرحِ سود میں نصف سے زائد کمی کی بھی درخواست کی ہے۔
خبر فائل کیے جانے تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارتِ خزانہ کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا تھا۔بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ دو ارب ڈالر کی ادائیگی واجب الادا تھی جسے یو اے ای نے بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
یو اے ای نے 2018 میں پاکستان کو ایک سال کے لیے دو ارب ڈالر کا قرض دیا تھا، جو 16 ارب ڈالر کے سرکاری زرمبادلہ ذخائر کا حصہ ہے۔
اقرار الحسن کا ’عوام راج ‘تحریک کا اعلان
نائب وزیراعظم اسحق ڈار نے بدھ کو کہا کہ پاکستان پر دوست ممالک کا مجموعی قرض 12 ارب ڈالر ہے، جس میں پانچ ارب ڈالر سعودی عرب، تین ارب ڈالر یو اے ای اور چار ارب ڈالر چین کے ذمے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے 1996-97میں یو اے ای سے 450 ملین ڈالر کا قرض لیا تھا جو اب تک ادا نہیں کیا گیا اور اس پر بھی 6.5 فیصد شرحِ سود ادا کی جا رہی ہے۔
دو سالہ توسیع اس لیے طلب کی گئی ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے دوران پاکستان یہ قرض واپس کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی،وزیراعلی بلوچستان کے ہمراہ شہید میجر انور کاکڑ کے گھر پہنچ گئے ؛ اہل خانہ سے تعزیت کی
فنڈ پروگرام آئندہ سال ستمبر میں ختم ہو رہا ہے۔مرکزی بینک کے ترجمان سے بھی رابطہ کیا گیا کہ آیا یو اے ای نے دو سال کے لیے رول اوور اور نئی شرحِ سود پر اتفاق کیا ہے یا نہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ سال کی 32 ارب ڈالر کی برآمدات کو چار سال میں 63 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے، تاہم براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا۔
جمعرات کو عالمی بینک کے وفد نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی اور بتایا کہ سرمایہ کاری کی سطح کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے اہداف سے کم ہے۔
ایسا روبوٹ جو انسانوں کے ہونٹوں کی طرح حرکت دیکر باتیں کرسکتا ہے
وزارتِ خزانہ کے مطابق عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازر نے سی پی ایف پر بریفنگ دی۔عالمی بینک نے نتائج پر مبنی حکمتِ عملی، واضح پالیسی اہداف اور تکنیکی معاونت کی بھی تجویز دی۔
پاکستان نے گزشتہ ہفتے توانائی کے شعبے کے 36 ارب ڈالر کے قرض کی ری فنانسنگ کے لیے بھی عالمی بینک سے مدد مانگی تھی۔ عالمی بینک نے بتایا کہ وہ مکمل فنڈنگ تو نہیں کر سکتا، تاہم جزوی ضمانتیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ارب ڈالر کے پاکستان نے عالمی بینک یو اے ای نے کہ پاکستان سال کے لیے بتایا کہ دو سال قرض کی
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔