کوئٹہ، تحریک تحفظ آئین کا اجلاس، 8 فروری کے احتجاج پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اجلاس میں صوبے کے تمام اضلاع میں 8 فروری 2026 کے پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کے حوالے سے فیصلوں کو عملی جامع پہنانے کیلئے اقدامات اٹھانے کی تاکید کی گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے آٹھ فروری کے پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بنانے کے حوالے سے کوئٹہ میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں اجلاس کا انعقاد کیا۔ جس میں 8 فروری کے شٹرڈاؤن و پہیہ جام ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے حکمت عملی طے کی گئی اور مختلف فیصلے کئے گئے۔ اجلاس میں طے کیا گیا بلوچستان کے تمام اضلاع میں تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل سیاسی پارٹیوں، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، بلوچستان نیشنل پارٹی اور مجلس وحدت المسلمین کا مشترکہ اجلاس 18 جنوری کو منعقد ہوگا۔ اجلاس میں صوبے کے تمام اضلاع میں 8 فروری 2026 کے پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کے حوالے سے فیصلوں کو عملی جامع پہنانے کے لئے اقدامات اٹھانے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس موقع پر کوئٹہ سمیت تمام صوبے میں مختلف تنظیموں، ٹرانسپورٹرز، زمینداروں، اساتذہ، وکلاء، ڈاکٹرز، رکشہ یونین، تاجروں اور زندگی کے مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں سے رابطوں کے لئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 17 جنوری کو سہہ پہر 3 بجے کوئٹہ میں تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل سیاسی پارٹیوں کی جانب سے پریس کانفرنس کا انعقاد ہوگا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے 8 فروری 2024 کے جعلی، فراڈ، زر اور زور کے بھونڈے انتخابات کے خلاف 8 فروری 2026 کو تاریخ ساز شٹر ڈاؤن و پہیہ جام ہڑتال دراصل بھونڈے جعلی نام نہاد انتخابات اور اس کے مسلط حکومت / حکومتوں کے خاتمے کا ذریعہ ہوگی اور اس طرح ملک کے متقفہ آئین کی بحالی، حقیقی منتخب پارلیمنٹ کی خود مختاری، جمہوری کی حکمرانی، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی، غیر منتخب پارلیمنٹ اور اس کے ذریعے مسلط غیر جمہوری حکومتوں کا خاتمہ اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی رہائی کے جاری جدوجہد کو تقویت پہنچے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ مسلط حکومت اور پارلیمنٹ کی آئینی ترامیم خصوصاً 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم، انویسٹمنٹ ایکٹ میں SIFC سے ملکی آئین کی خلاف ورزی اور صوبائی خودمختاری کا خاتمہ اور ملک میں بنیادی انسانی حقوق کی پائمالی کی گئی۔ ایسے میں 8 فروری 2026 کو پہیہ جام و شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کامیابی کے لئے رکن پارٹیوں اور جمہوری سیاسی قوتوں نے کردار ادا کرنا ہوگا۔ اجلاس میں پشتونخوا میپ کے عبدالرحیم زیارتوال، ڈاکٹر حامد اچکزئی، مجید خان اچکزئی، کبیر افغان، حاجی صورت خان، ملک عمر کاکڑ، گل خلجی، پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر داؤد شاہ کاکڑ، عبدالحئی آغا، سردار زین العابدین خلجی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے اراکین واحد بلوچ، غلام نبی مری، مجلس وحدت المسلمین کے صوبائی نائب صدر علامہ ولایت حسین اور محمد یونس نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تحریک تحفظ آئین پاکستان اجلاس میں پہیہ جام کی گئی
پڑھیں:
5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔