ایکنک، 117 ارب سے زائد مالیتی ترقیاتی منصوبے منظور
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام آباد (نیوزڈیسک) صحت سہولت پروگرام کی توسیع 30 جولائی 2026 تک کرنےکی منظوری بھی دی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ایکنک کے اجلاس میں 117 ارب روپے سے زائد مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی گئی، صحت سہولت پروگرام میں بھی توسیع کردی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ایکنک کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں 117 ارب روپے سے زائد مالیت کے اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں صحت سہولت پروگرام کی مدت میں 23 جولائی 2026 تک توسیع کی منظوری دی گئی، جبکہ توانائی، بنیادی ڈھانچے اور ٹرانسپورٹ کے مختلف منصوبوں کی بھی منظوری دی گئی۔اس موقع پر اسحاق ڈار نے ہدایت کی کہ تمام منصوبوں میں مؤثر منصوبہ بندی، بروقت عملدرآمد اور پائیداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی منظوری
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔